MOJ E SUKHAN

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو

غزل

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو
جس سمت سفر میں ہے مری ذات وہ تم ہو

جو سامنے ہوتا ہے کوئی اور ہے شاید
جو دل میں ہے اک خواب ملاقات وہ تم ہو

دن آئے گئے جیسے سرائے میں مسافر
ٹھہری رہی آنکھوں میں جو اک رات وہ تم ہو

ہر بات میں شامل ہیں تصور کے کئی رنگ
ہر رنگ تصور میں ہے جو بات وہ تم ہو

جب دھول ہوئے راہ سفر میں تو یہ جانا
منزل گہہ جاں ہیں جو مقامات وہ تم ہو

دکھ حد سے جو گزرا تو کھلا دل پہ کہ یوں بھی
در پردہ ہے جو محو مدارات وہ تم ہو

دل جوئی کا انداز بھی نرمی بھی وہی ہے
سینے پہ ہوا رکھتی ہے جو ہات وہ تم ہو

باقی تو اندھیرے ہی محیط دل و جاں ہیں
مہر و مہ و انجم ہیں جو لمحات وہ تم ہو

ہاں مجھ پہ ستم بھی ہیں بہت وقت کے لیکن
کچھ وقت کی ہیں مجھ پہ عنایات وہ تم ہو

ضیا جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم