غزل
اس قدر گل پہ مہربانی کیوں
اور کانٹوں سے خار کھانی کیوں
ان سرکش ہواؤں سے پوچھ ذرا
ہاتھ شاخوں کے ہیں خالی کیوں
یہ محبت ، ملن ہے روحوں کا
جسم خاکی پہ حکمرانی کیوں
کچھ خرد سے بھی مشورہ ہوتا
دل نے آنکھوں کی بات مانی کیوں
پیر پھیلائے — مفلسی ہے جہاں
جھانکتی بھی نہیں جوانی کیوں
ناز تھا تجھ کو ضبط گریہ پر
صوفیہ ، آنکھ میں یہ پانی کیوں
صوفیہ حامد خان