MOJ E SUKHAN

ان کی زلفوں میں جتنی شکن چاہیے

ان کی زلفوں میں جتنی شکن چاہیے
ہم کو اتنا ہی دیوانا پن چاہیے

چاہیے ان کو رنگیں قبا اور ہمیں
چاک کرنے کو اک پیرہن چاہیے

یہ بھی ہے ایک سامانِ دل بستگی
کچھ تماشائے دار و رسن چاہیے

میرے جیسے مسافر بہت آئیں گے
ان کے جیسا حسیں راہزن چاہیے

قتل کرنے ہی کا اک سلیقہ سہی
کچھ تو مشہور ہونے کو فن چاہیے

آج کل سب کا بدلا ہوا بھیس ہے
شیخ ڈھونڈو اگر برہمن چاہیے

دل کا ایک ایک قطرہ لہو دے دیا
اور کیا، اے بہارِ چمن، چاہیے

ہم تو جلتے ہیں، تم بھی جلو دوستو
شمع کے واسطے انجمن چاہیے

اپنے ٹھنڈے دلوں کے لیے مانگ کر
ہم سے لے جاؤ جتنی جلن چاہیے

کج کلاہی فقط کام آتی نہیں
کچھ طبیعت میں بھی بانکپن چاہیے

کہنے والے پہ گذرے سو گذرا کرے
سننے والوں کو لطفِ سخن چاہیے

(کلیم عاجز)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم