مختصر افسانے
جلدی
تحریر : سید ایاز مفتی
بہت بے چینی کے عالم میں اپنے دوست کے فون کا انتظار کررہا تھا . جیسے ہی رنگ بجی میں نے رنگ کو پوری طرح بجنے سے پہلے ہی اٹھالیا . اور فوراً بولا ہاں سرمد . جی ہاں دوسری طرف سرمد ہی تھا . کہنے لگا
یارآج ہی ہالی ودڈ کی سلویسٹر اسٹالون کی بہت عرصے کے بعد مووی آئی ہوئی ہے . کب آرہے ہو سب تمہارا انتظار کررہے ہیں . میں نے کہا ” اچھا یار میں بس 10 منٹ میں پہنچتا ہوں . بس جلدی سے ظہر کی نماز پڑھ لوں . میں نے اپنے ایپل فون کو ایک طرف رکھا . فوراً باتھ روم کی طرف بھاگا . وضو ایسے کیا جیسے کہ کوئی ناگوار کام سر انجام دینا ہے . شاید ایک منٹ بھی نہیں لگا . اور وضو مکمل ہوگیا . گھر والوں سے کہا کہ جائے نماز کہاں ہے . بہن ڈھونڈھنےلگی . تو میں نے غصے سے کہا . کہ اتنی دیر لگارہی ہو . اور فوراً ہی مصلی ٰ کا انتظار کئے بغیر ایک کرسی لے کر اس پر بیٹھ کر ہی نماز پڑھنا شروع کردی .
میرے نماز شروع کرتے ہی مرے ایپل پر اذان شروع ہوگئی . اور میں نماز میں ہی پیچ و تاب کھانے لگا . کہ کوئی اسے بند کیوں نہیں کررہا ہے . اور جیسے ہی میں نے سلام پھیرا . میرے چہرہ غصے سے غضبناک ہوچکا تھا . اور میں نے سارا غصہ گھر والوں پر نکال دیا . کہ اذان بند نہیں کرسکتے تھے یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ میں نماز شروع کرچکا ہوں . خیر ظہر کا وقت تھا . سنتیں تو پہلے ہی چھوڑ دی تھیں . صرف فرض اور دو سنت اور دو نفل ریکارڈ وقت میں ختم کرکے میں اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا . سبک رفتار ی ے گاڑی نکالی اور اسکی آواز نے محلے کے کئی افراد کی توجہ حاصلی کرلی جو مجھے گھوررہے تھے . مگر ان کی چنداں فکر نہ تھی
. ریش ڈرائیونگ کرتا ہوا میں دوستوں کی بتائی ہوئی جگہ پہ پہنچا اور پھر یہ قافلہ رواں دواں سینما کی جانب چلا . وہاں ایک دنیا آئی ہوئی تھی . چنانچہ ٹکٹ لینا اتنا آسان کام نہیں تھا . ایک بلیک ٹکٹ بیچنے والا مل گیا . ہم نےاسے خدا خوفی یاد دلائی .تاکہ وہ کچھ کم پیسوں میں ٹکٹ دےسکے . تاہم اس نے کسی بھی قسم کے ڈسکاؤنٹ دینے سے انکار کردیا .چنانچہ منہ مانگی قیمت پر ٹکٹ لینا پڑا . اورہم سینما ہال میں جاکر بیٹھ گئے .فلم کا وقت 3 بجے تھا .. اور فلم تقریباً 45منٹ کی تاخیر سے شروع ہوئی . چونکہ وہ مختلف ایڈز پلے کرنے میں مصروف تھے .مجھے نہیں معلوم کس طرح مگر میرے اندر اس وقت ایک عجیب سی کشمکش نے جنم لیا . تنہائی نے مرے سامنے ایک آئینہ تشکیل دے دیا . جس میں کوئی میرے جیسا مجھ سے سوال کررہا تھا . یہ سوالات کچھ یوں تھے .وضو میں اللہ رسول یا نماز کے لئے کوئی دھیان تھا ؟
نماز میں اللہ کی طرف کوئی دھیان تھا ؟
جائے نماز تک کا انتظار نہ کیا.
تارکِ سنت ہوا . خدا کی بارگاہ میں میں دو منٹ بھی نہ دے سکا . اسے بھی ایک ناگواری کے تاثر سے مکمل کیا .
کیا یونہی اللہ کی دی ہوئی معراج پر جانے کا اعزاز حاصل کرو گے.
جائے نماز تک کا انتظار نہ کیا.
تارکِ سنت ہوا . خدا کی بارگاہ میں میں دو منٹ بھی نہ دے سکا . اسے بھی ایک ناگواری کے تاثر سے مکمل کیا .
کیا یونہی اللہ کی دی ہوئی معراج پر جانے کا اعزاز حاصل کرو گے.
بہن بھائیوں سے اذان پر جو تم نے حسنِ سلوک کیا . کیا یہی طرزَ عمل ایک مسلمان کا ہونا چاہیئے
لوگوں کی زندگی کو خظرے میں ڈال کر گاڑی چلائی . کہ اس سینمے میں وقت پر پہنچ سکو . کہ جو تمہیں ٹائم پہ فلم تک دکھانے کا پابند نہیں سمجھتا .
بلیک میں کوئی ٹکٹ دے تو اسے خدا خوفی کا درس دیتے ہو . اورمنہ مانگے داموں لینے میں بھی تمہیں کوئی عار نہیں
اب یہاں سکون سے بیٹھے ہو . فلم بھی دیر سے شروع ہوئی مگر تمہیں سب گوارا ہے ؟
کیا طمانیت قلبی اسی کو کہتے ہیں . سوچو کہ اگر اللہ کریم یہاں پر اسی جگہ تمہاری سانس کی طنابیں کھینچ لے . تو تمہاری موت پر دنیا ، دوست ، اور بعد از مرگ فرشتے کیا کہیں گے .
خدا اور اسکے رسول کے لئے کیئے جانے والے اعمال پر تمہارے اندر ایک ناگواری کا تاثر کیوں ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ خود خدائے ذوالجلال تم سے ناراض ہیں . اور اسی لئے نماز اور عبادات کا خشوع و خضوع تم سے چھین لیا گیا ہے . اور شیطان نے یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے تمہارے حواس کو اپنے قابو میں کرلیاہے. کیا ماں باپ ، بہن بھائیوں کے ساتھ یہ حسنِ عمل تمہیں زیب دیتا ہے ؟
میں اپنے عکس کے سوالات کی تاب نہ لا پایا .میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے . اور میں اٹھا . میرے ایک دوست نے پوچھا کہاں جارہے ہو . میں نے کہا . کہ یار معذرت مجھے کچھ یاد آیا . مجھے گھر پہنچنا ہے . فلم دیکھے بِنا ہی میں گھر کی جانب چلا .آج مجھے گھر جانے کی جلدی تھی . مگر پھر بھی سیف ڈرائیونگ کرتے ہوئے گھر پہنچا . تمام راستے میری آنکھیں ندامت کے آنسوؤں سے لبریز تھیں . گھر میں داخل ہوا تو میری بہن نے پوچھا ، بھائی کیا فلم اتنی جلدی ختم ہوگئی . میرے پاس کوئی جواب نہ تھا . میں نے صرف یہ پوچھا
” عصر کی اذان ہوگئی ہے کیا؟ ….بہن نے کہا ..جی ..کچھ ہی لمحوں میں ہونیوالی ہے . اور میں اذان کو سنتا رہا اور دل ہی دل میں روتا رہا .
. اور وضو کرنے کے لئے کھڑا ہؤا . ایسا لگا کہ پہلی مرتبہ اللہ کے سامنے اسکو گواہ بنا کر پاک صاف ہونے کی اپنی سی کوشش میں جتا ہؤا ہوں . اسی عالم میں میں نے کئی مرتبہ وضو کیا . تاکہ کوئی غلطی نہ ہوجائے . پھر میں نے جائے نماز بچھایا تو یوں محسوس ہؤا کہ یہ انسان کو عطا کیا گیا اللہ کا کوئی براق ہے .جو اسکو معراج ِ انسانی کےبارگاہ ِ رب میں لے جانے کا اہتمام و انصرام کرتا ہے . میں اس پر کھڑا ہوا تو میری ٹانگیں کپکپا رہی تھیں . اور انجانے خوف یا خشیت سے لرز رہی تھیں . آیات ِ قرآنی کا آغاز کیا اور میرا براق مجھے عالم ِ تصور میں خدا کی بارگاہ مٰیں لے گیا . الحمد رب االعالمین ، مالکِ یوم الدین ، اور ایاک نستعین کی خوبصورت تکرار میرے خاکی وجود کو اپنے مالک کے حضور اسکی مدح کا اعزاز ِ حسیں دے رہی تھی . رکوع و سجود اس وقت ایک عجب سی کیفیت کا احساس دے رہے تھے .سجدہ کہتا تھا کہ اب مجھے تسبیحِ ربی سے کوئی نہ روکے . ایک خواہش دل میں جنم لے رہی تھی کہ کاش یہیں اللہ کریم اسی سجدے کی کیفیت میں ملک الموت کوکہہ کر مجھے مستقلاً اپنی بارگاہ میں بُلا لیں . نماز کی یہ چاشنی ، یہ سرود ، یہ نشہ ،یہ سرور یہ کیف مجھے پہلی مرتبہ ملا تھا . میں اس لذت حقیقی سے پہلی مرتبہ آشنا ہؤ ا تھا . شاید اسکی وجہ یہ تھی کہ آج ” مجھے جلدی نہیں تھی
ابنِ مفتی سید ایاز مفتی