MOJ E SUKHAN

جو دکھ دیے تھے کبھی تم کو آزمانے کو

غزل

جو دکھ دیے تھے کبھی تم کو آزمانے کو
وہ تیر بن کے پلٹ آئے سب نشانے کو

تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو بے اماں ہوتے
تمہاری چھاؤں ضروری تھی آشیانے کو

نہیں ہے خوف کہ نیچا دکھائے گی دنیا
جو ساتھ تم رہو جاناں مجھے اٹھانے کو

جو میں نے اپنی ہی گدڑی میں خود اجالے ہیں
وہی ہیں لعل بہت زندگی سجانے کو

ضروری ہے کہ رہے تازگی محبت میں
رفاقتیں نہ رہیں وعدہ اب نبھانے کو

جو تنکے تنکے جمع کر کے آشیانہ بنے
بس ایک برق ہے کافی اسے جلانے کو

مقام عظمت آدم سمجھ میں آنے لگا
فرشتے چومنے آتے ہیں آستانے کو

ہمارے بعد بھی مہکا کرے گی بزم طرب
اگرچہ عمر لگے گی ہمیں بھلانے کو

رہے گی زندہ مرے بعد داستاں میری
پڑھیں گے لوگ ہمیشہ مرے فسانے کو

کرامتؔ ان کو زمانہ سلام کرتا ہے
جو نوک پا پہ ہی رکھتے ہیں اس زمانے کو

کرامت غوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم