Dil KO Weeran Kar Gaya koi
غزل
دل کو ویران کر گیا کوئی
ایک مشکل سے ڈر گیا کوئی
روپ کیا دھارا دل نے پتھر کا
اس میں آیا گزر گیا کوئی
کوئی مر کر بھی زندہ رہتا ہے
زندہ رہ کر بھی مر گیا کوئی
عشق نے مجھ کو تو اجاڑا ہے
عشق میں پر سنور گیا کوئی
یاد فرصت میں بھی نہیں آتا
ذہن و دل سے اتر گیا کوئی
میں نے لکھا کسی کی وحشت پر
میری وحشت سے ڈر گیا کوئی
ہائے کیسے کہوں میں یہ تم سے
میرے دل سے اتر گیا کوئی
میرے دل کی تباہ حالی میں
تنکا تنکا بکھر گیا کوئی
بے خبر عشق کرنا بنتا ہے
آگ میں با خبر گیا کوئی
آج آصف ہمارے پہلو سے
خامشی سے گزر گیا کوئی
سید آصف نقوی
Syed Asif Naqvi