MOJ E SUKHAN

ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں

ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں
تمہارے زخم کو پہچانتا تو میں بھی ہوں

نہ جانے کون سی آنکھوں سے دیکھتے ہو مجھے
تمہاری طرح سے ٹوٹا ہوا تو میں بھی ہوں

تمہی پہ ختم نہیں مہر و ماہ کی گردش
شکست خواب کا اک سلسلہ تو میں بھی ہوں

تمہیں منانے کا مجھ کو خیال کیا آئے
کہ اپنے آپ سے روٹھا ہوا تو میں بھی ہوں

مجھے بتا کوئی تدبیر رت بدلنے کی
کہ میں اداس ہوں یہ جانتا تو میں بھی ہوں

تلاش اپنی خود اپنے وجود کو کھو کر
یہ کار عشق ہے اس میں لگا تو میں بھی ہوں

رموز حرف نہ ہاتھ آئے ورنہ اے اشفاقؔ
زمانے بھر سے الگ سوچتا تو میں بھی ہوں

اشفاق حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم