MOJ E SUKHAN

زمین پر ہی رہے آسماں کے ہوتے ہوئے

زمین پر ہی رہے آسماں کے ہوتے ہوئے
کہیں نہ گھر سے گئے کارواں کے ہوتے ہوئے

میں کس کا نام نہ لوں اور نام لوں کس کا
ہزاروں پھول کھلے تھے خزاں کے ہوتے ہوئے

بدن کہ جیسے ہواؤں کی زد میں کوئی چراغ
یہ اپنا حال تھا اک مہرباں کے ہوتے ہوئے

ہمیں خبر ہے کوئی ہم سفر نہ تھا پھر بھی
یقیں کی منزلیں طے کیں گماں کے ہوتے ہوئے

وہ بے نیاز ہیں ہم مستقل کہیں نہ رکے
کسی کے نقش قدم آستاں کے ہوتے ہوئے

ہر ایک رخت سفر کو اٹھائے پھرتا تھا
کوئی مکیں نہ کہیں تھا مکاں کے ہوتے ہوئے

یہ سانحہ بھی مرے آنسوؤں پہ گزرا ہے
نگاہ بولتی تھی ترجماں کے ہوتے ہوئے

ہدایتوں کا ہے محتاج نامہ بر کی طرح
فقیہہ شہر طلسم بیاں کے ہوتے ہوئے

عجیب نور سے رشتہ تھا نور کا اختر
کئی چراغ جلے کہکشاں کے ہوتے ہوئے

اختر ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم