MOJ E SUKHAN

عشق جو والہانہ ہوتا ہے

غزل

عشق جو والہانہ ہوتا ہے
خود کو ہی آزمانا ہوتا ہے

صرف الفاظ ہی نہیں ہوتے
شعر پورا زمانہ ہوتا ہے

کشتیاں اور لوگ لاتے ہیں
میں نے دریا بنانا ہوتا ہے

مبتلا بے نشاں نہیں ہوتے
ان کا اپنا گھرانا ہوتا ہے

لوگ کرتے ہیں عشق کی باتیں
میں نے کرکے دکھانا ہوتا ہے

وصل تنہا نہیں ہے اس کے جناب
ہجر شانہ بہ شانہ ہوتا ہے

ہم کسی کو پیام دیتے ہیں
شعر تو اک بہانہ ہوتا ہے

میں مزاجاً فقیر ہوں میرا
ہر سخن عاجزانہ ہوتا ہے

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم