MOJ E SUKHAN

فلک سے رابطہ ٹوٹا زمیں پہ آن پڑے

فلک سے رابطہ ٹوٹا زمیں پہ آن پڑے
جہاں سے اڑ کے چلے تھے وہیں پہ آن پڑے

حضورِ عشق ہماری خرد کے مفروضے
جو "ھو” کا راز کھلا تو ہمیں پہ آن پڑے

یہ جب سے ہم پہ ہماری ہی خاک کھلنے لگی
یہ خواہشات کے پربت زمیں پہ آن پڑے

وہ جن کے لب پہ تھی” ہاں ہاں” بصبح روزِ الست
فنا کی گود میں بیٹھے” نہیں” پہ آن پڑے

مری طلب در ساقی پہ محوِ رقص ہوئی
شکن زمانے کی یہ کیوں جبیں پہ آن پڑے

نگاہِ عفو ہو مرشد کہ تیرے خانہ بدوش
مکاں کو چھوڑ کے اب تو مکیں پہ آن پڑے

ثمر خانہ بدوشؔ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم