MOJ E SUKHAN

مدتوں جو رہے بہاروں میں

غزل

مدتوں جو رہے بہاروں میں
آج وہ گھر گئے ہیں کانٹوں میں

میں کہ صحرا نورد ہوں لیکن
پرورش چاہتا ہوں پھولوں میں

عکس تیرا دکھائی دیتا ہے
بہتے پانی کی نرم لہروں میں

کھل گئے خواہشوں کے دروازے
پھر بھی کوئی نہیں ہے بانہوں میں

جو مہکتے ہیں خوشبوؤں کی طرح
لمس تیرا ہے ان گلابوں میں

کار فرما دکھائی دیتا ہے
میرا احساس میرے جذبوں میں

آج ہم سے بچھڑ گیا اخترؔ
تذکرہ ہو رہا تھا لوگوں میں

اختر سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم