پیدا کیا ہے جس نے مالک ہے وہ ہمارا
رازق ہے وہ ہمارا خالق ہے وہ ہمارا
مچھلی کا رزق اس نے پانی میں رکھ دیا ہے
پتھر کے نیچے کیڑا بھی پیٹ بھر رہا ہے
انسان اس جہاں کا تحفہ حسین تر ہے
مخلوقِ کل جہاں میں تب ہی تو معتبر ہے
بندے ہیں ہم اسی کے ستار وہ ہمارا
ہم آسماں کو چھو لیں کردے اگر اشارہ
تتلی کے پر میں دیکھو رنگوں کی تازگی ہے
جگنو کے پر میں بھی تو اس کی ہی روشنی ہے
باتوں پہ اس کی چلنے میں ہی تو بندگی ہے
اس کی عنایتوں سے روشن یہ زندگی ہے
اپنے لیے زمیں پر کیا کچھ نہیں اتارا
آتا ہے وہ مدد کو جب جب اسے پکارا
نسیم شیخ