چہرے ہمارے دیکھو مرجھا گئے ہیں انکل
بادل سروں پہ کیسے یہ چھا گئے ہیں انکل
ہے التجا ہماری دنگا فساد چھوڑو
سر سے ہمارے سایا ماں باپ کا نہ چھینو
یہ موت کا تماشا اب بند کردو انکل
یوں گولیاں چلانا اچھا نہیں ہے انکل
دنگا فساد ہو گا جب شہر میں تو انکل
اسکول بند ہونگے ہم کیا کریں گے انکل
ہے بند شہر سارا ماحول میں گھٹن ہے
گھٹتا ہے دم ہمارا سوچو ذرا سا انکل
ہے بس یہی گزارش اب مان جاؤ انکل
بندوق بے سبب مت اپنی چلاؤ انکل
نسیم شیخ