MOJ E SUKHAN

ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روش

ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روش
ہنس کے فرمایا لے آئی آپ کے دل کی کشش

دل جونہی تڑپا وہیں دلدار آ پہونچا شتاب
اپنے دل کی اس قدر تاثیر رکھتی ہے طپش

سیر کو آیا تھا جس گلشن میں کل وہ نازنیں
تھی عجب نازاں بخود اس باٹ* کی اِک اِک روش

ڈالتی ہے زلفِ پیچاں گردنِ دل میں کمند
اور رگِ جاں سے کرے ہے نشترِ مژگاں خلش

بھول کر اس کی جفا کا شکوہ مت کیجو نظیر
تو پریشاں گو ہے سخت اور یار ہے نازک منش

(نظیر اکبر آبادی)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم