MOJ E SUKHAN

آنکھوں پہ بھروسہ تو بہر طور کریں گے

غزل

آنکھوں پہ بھروسہ تو بہر طور کریں گے
ہم گریہ ابھی اور ابھی اور کریں گے

ورنہ توکبھی منہ نہ لگاتے تمہیں پاگل
اب دل نے کہا ہے تو کبھی غور کریں گے

ہم اتنا سمجھتے ہیں تمہیں یار مقدم
تم کچھ بھی کہوہم اُسےفی الفورکریں گے

چاہو تو ملاقات بھی ہوسکتی ہے اپنی
ہم اگلا پڑاو ترے لاہور کریں گے

جینے کا ہنر کس سے بھلا کیسے ملے گا
یہ اپنی مدد گزرے ہوئے دور کریں گے

اسد رضا سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم