MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

افسانہ فریدہ افسانہ نگار احسان الہی احسان

فریدہ (افسانہ)

بالآخر فریدہ کا نکاح ہو گیا۔ رخصتی بھی۔ دونوں کاموں میں صرف دو گھنٹے لگے۔ یہ کیا؟ شادی اور صرف دو گھنٹوں میں۔ اور وہ بھی خالصتاً دیہاتی گھر میں۔ جی ہاں۔ شادی اس لئے نہیں کہا کہ دیہاتی شادی میں کچھ نہ کچھ تھوڑا بہت شور شرابہ، غل غباڑہ اور ڈھول ڈھمکہ اور تالیوں کی تال کا عنصر توموجود ہوتا ہے۔ فریدہ کے نکاح اور رخصتی میں ایسا کوئی عنصر موجود نہیں تھا۔گھر والوں خاصکر فریدہ کے چھوٹے بھائی جو اس سے 5 سال چھوٹا تھا اور اسکی دو چھوٹی بہنوں کو تو اس بات کی ہی دل میں بہت بڑی خوشی تھی کہ کم از کم ماں باپ کی روزانہ کی لڑائی تو ختم ہوگی۔ جسکی ریہرسل ان دونوں کے درمیان پچھلے دو سال سے ہوتی رہی تھی۔ اور رات کے کھانے کے بعد روزانہ بلاناغہ ہوتی تھی۔ اس ریہرسل کا آغاز بھی لڑائی سے ہوتا تھا اور انجام بھی۔ جب دونوں توں توں میں میں کر کرکے تھک جاتے اور معاملہ زبانی کلامی کی کاروائی سے بڑھنے لگتا تو اس مقدس کام کو اگلے دن پر ملتوی کر دیا جاتا۔ اس کے ساتھ اگر کوئی اور کام باقاعدگی کے ساتھ ہوتا تھا تو بچوں کا دل ہی دل میں رونا یا آنسوؤں کا بے ساختہ طور پر نکل آنا ہوتا تھا۔ ماں اور باپ دونوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہ تھا کہ ان بچوں کو کس گناہ کی سزا دی جارہی ہے۔ فریدہ خود بھی ہر روز کی اس مشق سے بہت نالاؐں اورپریشان تھی۔ لیکن کیا کرسکتی تھی۔ خالص دیہاتی لڑکی۔ جس کا اپنے مستقبل کے بارے میں خود سوچنا اور کچھ کہنا بھی ایک بے ادبی تصور کی جاتی تھی۔ بعض اوقات تو اس حرکت کو باقائدہ گناہ سمجھا جاتا تھا۔ وہ وقت بھی کچھ ایسا تھا کہ بعض مائیں اور خالائیں یعنی دو بہنیں آپس میں یہ بھی طے کر لیتی تھیں۔ کہ اگر وہ بچہ جو ابھی اس کے پیٹ میں ہے لڑکا ہوگا تو بہن کے بیٹ میں موجود لڑکی کے ساتھ اس کی شادی کی جائے گی اور اگر لڑکی ہوئی تو بہن کے ہونے والے بیٹے سے ہی اس کی شادی کی جائے گی۔ وہ یہ بات سوچنے کے لئے قطعاً تیار نہیں تھیں کہ اگر دونوں کے ہاں بیٹے یا دونوں کے ہاں بیٹیاں ہو گئیں تو کیا کریں گی۔ کیونکہ ایسی بات ان کی خواہشات کے خلاف تھی۔

چھوٹے بچوں اور فریدہ کے لئے ماں باپ کا آپس میں جھگڑا بظاہر تو ختم ہو گیا تھا لیکن ان کو کیا معلوم کہ ابھی جھگڑے کا صرف پہلا دور ہی ختم ہوا تھا۔ فریدہ کی رخصتی کے بعد لڑائی کے دوسرے دور کا آغاز ہونا تھا۔

فریدہ کے باپ ہاشم اور اسکی ماں رضیہ کی سوچوں میں جو بنیادی فرق اور اختلاف تھا وہ ایسا نہیں تھا کہ جس کا خاتمہ فوری طور پر ممکن ہو۔ رضیہ اپنی ماں یعنی ہاشم کی ساس نورجہاں کے زیرِ اثر تھی۔ یہ نورجہان ہی تھی جس نے اس چنگاری کو سب سے پہلے ہوا دی۔ کرم دین نورجہان اور اس کی باقی تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ جو سب بہنوں سے چھوٹا تھا۔ اس لحاظ سے وہ اپنی بہنوں کا بہت لاڈلا بھائی تھا۔ اس نسبت سے اس کی اولاد بھی تمام بہنوں اور خاص کر نورجہان کو بہت پیاری تھی۔ نورجہان کے اس لاڈلے بھائی کا بڑا بیٹا فضلو جوان ہو چکا تھا اور اپنے باپ کے ساتھ مزدوری کرنے کے لئے جاتا تھا۔ نورجہان ایک دن اپنی بیٹی رضیہ کو کہنے لگی کہ ماشا اللہ فضل جوان ہو چکا ہے۔ باپ کے ساتھ کمائی بھی کر رہا ہے۔ ہماری فریدہ بھی جوانی کی دہلیز بر قدم رکھ رہی ہے۔ خیال رکھنا کہ رضیہ کا رشتہ کہیں اور نہ جائے۔ یہی بات اس نے اپنے بھائی رمضان کے کان میں بھی کہہ دی۔ جو اس منصوبے پر بڑا خوش ہوا۔رضیہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بخوشی تیار ہو گئی۔

ہاشم کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ بہت انا پسند بلکہ خود پسند تھا۔ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی سوچوں اور فیصلوں پر کسی کو بھی اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب رضیہ نے فریدہ اور فضلو کے رشتے کی بات چھیڑی تو اس نے اس کو سختی کے ساتھ ڈانٹ دیا اور واضح طور پر اسے کہہ دیا کہ اس معاملے کو وہ خود بہتر طور پر سمجھتا ہے اور جانتا ہے۔ اور یہ کہ اس بارے میں وقت آنے پر وہ خود ہی فیصلہ کرے گا۔ اس نے مزید یہ بھی کہا کہ وہ رمضان اور اس کے بیٹے فضلو کے ساتھ مزدوری کرتا رہتا ہے۔ وہ دونوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ دونوں اس قابل نہیں ہیں کہ فریدہ کی زندگی ان کے حوالے کر دی جائے۔ لہذا اس بارے میں بہتر کہ رضیہ آئندہ اس سے کوئی بات نہ کرے کیونکہ جو کچھ وہ سوچ رہی ہے وہ ناممکن ہے۔

بس اب کیا تھا۔ یہی دن تھا جب دونوں میاں بیوی کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہو گئی۔ رضیہ واضح طور پر اور اسکی ماں خفیہ طور پر اپنی خواہشات پر زور شور سے کام کرنے لگیں۔ ادھر ہاشم کا دل بھی ان دونوں کے خلاف زہر آلود ہو چکا تھا۔ گھر میں ایک مستقل محاز آرائی کا آغاز ہو چکا تھا۔ رضیہ ہر شام یا رات کی لڑائی کا حال اپنی ماں کو دوسری صبح بتا دیتی تھی اور اس سے مزید ہدایات لے لیتی تھی۔ بچے ہر رات روتے روتے سو جاتے تھے اور دوسرے دن رات کو دوبارہ رونے کا انتظار کرنے لگتے تھے۔

اسی روزانہ کی ریہرسل میں ہاشم ایک دن بہت گھبرا گیا۔ اس نے بیوی کو تنگ آکے کہا کہ اس نے اس کی زندگی تو ویسے بھی اجیرن کر دی ہے۔ اپنے ماموں کو پیغام بھیج دے کہ میں اس رشتے کے لئے راضی ہوں اور وہ کل رات 8 بجے آجائیں ایک دو آدمیوں کو ساتھ لے کر اور 10 بجے رات تک نکاح اور رخصتی کا کام مکمل کر لیں۔ اس نے رضیہ کو بھی اسی بات کی تلقین کر دی۔ رضیہ بہت خوش ہو گئی کہ اس نے اپنے ماموں جان اور اس کے بیٹے کا دل ٹھنڈا کر دیا ہے اور اپنی ماں کی خوشی کا سبب بنی ہے۔

رخصتی کے دوسرے دن ہاشم نے اپنی اولاد کے سامنے رضیہ کو سامنے بٹھا کر یہ حکم صادر کر دیا کہ چونکہ رضیہ نے ہر صورت اپنی ضد پوری کر لی ہےلہذا اب اس کا بھی ایک حکم سن لے کی آج کے بعد نہ تو اس کا داماد، نہ داماد کا باپ اس کے گھر داخل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی رضیہ ان کے ہاں اور اپنی ماں کے ہاں جا سکتی ہے۔ ادھر سے اب صرف فریدہ ہی میرے گھر آ جا سکتی ہے۔ ایک گہری خاموشی کے بعد مجلس برخاست ہو گئی۔

اس دن کے بعد ہاشم کا یہ معمول بن گیا کہ مزدوری کے بعد شام کو جب گھر واپس آتا تو اپنے بیٹے معصوم کو فریدہ کے گھر بھیجتا کہ وہ اس کو بلا کر لے آئے۔ فریدہ جب سسرال والوں سے اجازت مانگتی جو سو کام گنوا دیئے جاتے۔ دو اڑھائی گھنٹوں کے بعد جب اجازت ملتی تو اپنے بھائی کو ساتھ لیکر اپنے باپ کو ملنے آتی۔ ہاشم نے دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اسی طرح کی اذیت دے کر ان سب کو ان کے کئے کی سزا دے گا۔ اسے یہ قطعاً احساس نہیں ہو رہا تھا کہ اصل سزا تو وہ بے چاری فریدہ کو دے رہا ہے۔ جس کا کوئی قصور نہیں تھا۔

اس سارے معمول میں رضیہ نے عجیب قسم کی چپ سادھ لی تھی۔ اس کو اندر سے کوئی دکھ کھائے جارہا تھا۔ دن بدن کمزور ہونے لگی۔ ایک ہی ماہ میں وہ دن رات چارپائی کی سواری کرنے لگی۔ ہاشم بھی پریشان رہنے لگا۔ محلے کی بوڑھی عورتوں نے بہت ٹونے ٹاٹکے بتائے لیکن رضیہ کی صحت بحال نہ ہوئے۔ چند ایک عطائی حکیموں نے بھی اپنے اپنے آبائی نسخے آزمائے لیکن کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا۔

ایک دن رضیہ نے اپنی بیٹے معصوم کواور دونوں چھوٹی بیٹیوں کو پاس بلایا۔ سب کو پیار کیا۔ معصوم کو کہا کہ فریدہ کو بلا کر لے آئے۔ فضلو اور اس کا باپ مزدوری پر گئے ہوئے تھے۔ فریدہ کو آنے میں آسانی ہو گئی۔ جب فریدہ اپنے ماں باپ کے گھر پہنچی تو چارپائی کے ارد گرد محلے کی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ رضیہ اللہ کو پیاری ہو چکی تھی۔ ہاشم بھی اب گھر آ چکا تھا۔ وہ تدفین کا بندوبست کرنے میں مصروف تھا۔ تمام رشتے ٹوٹ چکے تھے۔ پھوڑی کے چوتھے دن طلاق کا کاغذ فریدہ کے ہاتھ میں تھا۔ ہاشم اپنے سوٹی حقے کے سامنے بیٹھ کر حقے کے لمبے لمبے کش لینے میں مصروف تھا۔ فریدہ اور اس کے چھوٹے بہن بھائی حیرانی اور اداسی کے ساتھ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔

افسانہ نگار

احسان الہی احسان چکوال

Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین