’’ایک دیا احساس کا‘‘
از : ریحانہ احسان ۔ شاعرہ ، کالم نگار
ہم اگر سن انیس سو چھیانوے کراچی کی ادبی محافل اور نمایاں فورمز پر نظر ڈالیں تو ناظم آباد کی مؤدب و معطر ادبی کہکشاں میں ایک ایسا تابناک سیارہ روشنی لٹاتا نظر آتا ہے کہ جس کی بدولت فقط ناظم آباد کے ادبی پروانے ہی نہیں بلکہ تمام شہر کے تشنگانِ علم دور دور سے سفر کر کے اس بے مثال اور منفرد فورم پر اپنی پیاس بجھانے آتے تھے۔ آندھی ہو ، طوفان ہو، شدید گرمی یا رگوں میں خون جماتی سردیاں۔ اے جی کالج ناظم آباد کے دو چار یا آٹھ دس نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں منعقدہ یہ شاندار معیاری پروگرام کراچی کے ادبی منظر نامے کو اپنی خوبصورت اور پر تاثیر پروگراموں کی جانب متوجہ کرنے میں انتہائی کامیاب رہے۔
یہ پروگرام انتہائی باصلاحیت اور پر عزم نوجوان افسانہ نگار عزیز عزمی کی شبانہ روز محنت اور ادب سے اس کے قلبی لگاؤ کے غماز تھے۔اے جی کالج کے مشاعروں اور تنقیدی نشستوں میں نوجوان اہلِ قلم اساتذہ سے روشنی حاصل کرنے اور لیجینڈز اپنا علم نوجوانوں کو منتقل کرنے کی سرخوشی حاصل کرنے کی خاطر یہاں آیا کرتے۔ میں اپنی پوری دیانتداری کے ساتھ یہ لکھ رہی ہوں کہ اس ادبی کہکشاں کا ہر ستارہ یہاں اپنی روحانی تسکین اور اس عالمِ سرخوشی کی تلاش میں سفر کر کے آتا تھا کہ جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور انہیں کے حصے میں آتی ہے جنہیں خدا اپنے کرم سے نوازتا ہے اور انہیں ایک ادبی روح عطا فرماتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس دور کے تسلسل سے واقع ہوتے لرزہ خیز واقعات اور آئے دن کی ہڑتالیں بھی شمعِ علم کے ان پروانوں کو ان کے اس ادبی اجتماع سے نہ روک سکیں کہ جو عالمی معیار کا مگر شکستہ کرسیوں اور ایک چائے کی پیالی پر منعقد کیا جاتا۔ یہاں جناب سحر انصاری کے لیکچرز بھی ہوتے تھے اور پروفیسر جاذب قریشی، سرورجاوید، شبنم صدیقی، پروفیسر آذرحفیظ، اکرم کنجاہی کی خوبصورت گفتگو اور علمی تنقید بھی، امتیاز ساغر، شوکت عابد اور محسن بھوپالی کی لازوال شاعری بھی سننے کو ملتی۔ جبکہ نوجوان شعراء میں شاعر علی شاعر، شکیل احمد، ہاتف عارفی، طاہر عباس اور قیصر وجدی بڑے شوق و ذوق سے سرگرمِ عمل نظر آتے۔ یہاں نیّرندیم صاحب اور جناب ناز اکبرآبادی کسی سائبان کی طرح موجود ہوتے۔ خواتین میں شہناز نور، رخسانہ صبا، راقم الحروف ریحانہ احسان، آمنہ عالم اور سیمامنظرامکانی وہاں تسلسل سے موجود ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ باہر سے آنے والے قلمکارخواتین وحضرات بھی یہاں کے گلہائے تَر کی خوشبو سے مشامِ جاں کو معطرکرنے حاضر ہوتے۔
خاص بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے یہ ادبی پروگرام بغیر کسی سائبان کے معمولی سی بلکہ شکستہ سی کرسیوں پر منعقد ہوتے مگر ان کی کشش ہمارے ادبی سرمائے کو کھینچ کر لاتی اور مسلسل لاتی تھی۔ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک اہم ترہن فورم تھا۔
یہاں درازقد چھریرے بدن کا ایک نوجوان شاعر جسے غالباً خود کو نمایاں کرنے کا کوئی شوق نہ تھا، ان تنقیدی نشستوں سے اخذشدہ نتائج اور حقائق کو اپنی خداداد ذہانت کی بدولت بہت جلد سمجھ لیتا۔ یہ اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں سے ظاہر تھا۔ اگر کوئی نووارد شاعر اس بزم میں بحر سے خارج شعر پڑھتا تو اس کی تیوری پر بل پڑ جاتے تھے۔ گو کہ یہ اس نوجوان شاعر کا ابتدائی دور تھا مگر شعری سمجھ بوجھ اور ذہانت اس کے پاس عطیۂِ خداوندی تھی۔ بہت ذیادہ بولتا بھی نہیں تھا مگر لگتا تھا کہ جیسے سب کی نظروں سے اوجھل رہ کر وہ لازوال فضا کے عطا کردہ تمام ہیرے موتی اپنی سماعتوں سے ذہن کے دریچوں اور پھر ان دریچوں سے انہیں اپنی روح میں منتقل کر کے سکون حاصل کرتا ہو۔
جی ہاں یہ ہمارے فیاض بھائی تھے جنہیں بِیس بائیس سال بعد دیکھا تو ہم نے فوراً ہی انہیں ایک بزرگ کا درجہ دے دیا۔ اور ہم کیا ، ہمارے سینئرز بھی ان کا اسی طرح احترام کرتے ہیں اور اس کی وجہ صرف سفید ریش نہیں بلکہ سنجیدہ شخصیت ، طویل ریاضت اور شعر و ادب سے ان کی روحانی محبت ہے کہ اُنکی سچی شاعری نے بِلا تخصیص منظر نامے میں موجود تمام سینئر اور جونیئر شعراء کے دل جیت لئے ہیں اور انہیں اک بلند مقام پر لا کھڑا کیا۔ کسی بھی جذبۂِ مسابقت اور مادّی اور شعوری جدوجہد کے بغیر اللہ نے عزت و وقار اور قابلِ فخر شعری مقام اس دُرویش صفت شاعر کی جھولی میں گھر بیٹھے ڈال دیا ہے۔ یہ ان کا اک ایسا افتخار ہے جس کے لئے اہلِ قلم نہ جانے کیا کیا جتن کرتے ہیں۔ پروردگار نے فیاض علی فیاض کو ایسے دوست بھی عطا فرمائے ہیں کہ جن پر جتنا بھی ناز کیا جائے کم ہے ۔ اس کا اندازہ ہمیں سٹی کلب کی اس شاندار تقریبِ پذیرائی میں جا کر ہؤا جو شہر کی آٹھ مقبول ترین ادبی انجمنوں اور لیجینڈ اہلِ قلم نے اُن کے اعزاز میں ’’فیاض علی فیاض کے ساتھ ایک شام‘‘ کے عنوان سے منعقد کی تھی۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے زندگی میں بے شمار ادبی تقریبات میں شرکت کی ہے مگر بخدا اتنی خوبصورت اور دل کی گہرائیوں سے ترتیب دی ہوئی یہ اک ایسی یادگار اور شاندار تقریب تھی کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔
فیاض علی فیاض کے شعری سفر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سفر میں شروع سے آخر تک وہ اپبے گردوپیش کی حقیقتوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور خود اپنے آپ سے بھی جڑے رہتے ہیں۔ کہیں بھی کوئی ایسا مرحلہ پیش نہیں آتا جہاں شعری مقبولیت کے حصول کے لئے انہیں اپنے احساسات اور جذبات سے ہٹ کر لکھنے کی ضرورت پیش آئی ہو ۔ جدّت اور انفرادیت کے شوق میں انہوں نے کہیں بھی ایسے الفاظ استعمال نہیں کئے جو غزل کے مزاج سے میل نہ کھاتے ہوں اور غزل کے حُسن کو مجروح کرتے نظر آتے ہوں حالانکہ جدید منظر نامے پر انکی گہری نظر ہے اور بِلا شبہ وہ جدید غزل کے شاعر ہیں لیکن ان کی تخلیقات کی بنیادیں کلاسک پر ہیں اور انہوں نے جدّت کو کلاسک کے ساتھ اس خوبصورتی سے ہم آمیز کیا ہے کہ اس کی مثال آج کے منظر نامے میں ملنی مشکل ہے۔ سادہ لفظوں اور سہل انداز میں ان کا کلام دل میں اترتا چلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم انہیں جدید غزل کے نمائندہ شاعر بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ ان کے کلام میں حقیقتوں کے ادراک کے ساتھ ساتھ غزل کا بھرپور روائتی حسن بھی شامل ہے۔ شعر ملاحطہ فرمائیے:
؎پہلے توڑا گیا میں اندر سے
پھر مٹایا گیا ہوں منظر سے
۔۔۔۔۔۔۔۔
؎میں تیرگی سے لڑوں کہاں تک
ابھی تو بیٹھا ہوں گھر جلا کر
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی زندگی کی طرح وہ اپنی شاعری میں بھی کسی طرح کی مصلحت کے لئے تیار نہیں ۔ شعر ملاحظہ کیجئے:
؎جس کو دیکھو اب وہ بِکنے کے لئے تیار ہے
سرزمینِ پاک ہے یا مصر کا بازار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
؎کون اُترے گا آسمانوں سے
خود ہی نکلو ذرا مکانوں سے
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی ذات ، اپنے احساسات اور اپنے نظریات کی نفی نہیں کرتے بلکہ ان کا شعری رنگ و اسلوب ببانگِ دُھل ان کی شعری سچائیوں کا اعلان کرتا نظر آتا ہے۔
؎ جس نے پہنے ہوئے تھے دستانے
اس کو منصف بنا دیا ہم نے
؎ دیوار کی مانند میں طوفاں سے لڑوں گا
ٹوٹا بھی تو خود اپنے ہی قدموں پہ گروں گا
فیاض علی فیاض بَلا کے نبّاض ہیں اور ایک لمحے میں اصل حقائق تک پہنچنے کا ہنر جانتے ہیں۔ انکا یہ شعر گواہ کے طور پر لکھ رہی ہوں
؎ اب ہاتھ نہ پھیلائیں تو فیاضؔ کیا کریں
ورثے میں جو پائی تھی وہ دولت تو گنوا دی
فیاض علٓی فیاض ایک دُرویش صفت شاعر ہیں اور ان کی شاعری اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ان کی روح کی سرشاری کا باعث ہے بلکہ بعض اوقات میں نے ان میں شاعرانہ شہرت اور ہنگامہ خیزی کو پَل بھر میں لپیٹ کر ایک طرف رکھ دینے کا جذبہ بھی پایا ہے۔ وہ ایسی محافل میں جانا پسند نہیں کرتے کہ جہاں شعری معیار کی بجائے احباب ’’من تُرا حاجی بگویم ۔۔۔ تو مرا ملّا بگو‘‘ کے اصولوں پر کاربند ہوں۔ وہ اپنے مضبوط قدموں کے ساتھ اپنی دل کش شعری زمینوں پر نہایت اطمینان اور بڑے حوصلے سے کھڑے نظر آتے ہیں اور جہاں معیار کی بات آتی ہے وہاں وہ کبھی بھی مفاہمت کرتے نظر نہیں آتے۔
ان کے منفر و مُعَطّر مضامین ان کے اشعار میں ایک شاندار بُنَت کے ساتھ جگمگاتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے جو اسلوب اختیار کیا ہے اس کے لئے قلمکار کو اک عمر کی ریاضت درکار ہوتی ہے۔ جاگتا ہؤا ضمیر اور منظم و بااصول زندگی کے مدُھر آہنگ کے بغیر کسی بھی قلمکار کے لئے یہ رنگ اختیار کرنا اور یہ اسلوب بنانا ناممکن ہے۔
فیاض علی فیاض کی شاعری میں کسی درمیانی راستے نکالنے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اکثر ان درمیانی راستوں میں منافقت کی آمیزش پائی جاتی ہے۔ شعر ملاحظہ کیجئے:
؎ ابھی تو شانوں پہ سر ہے باقی
ابھی محبت کی ابتدا ہے
؎ آخر اس کو کیسے زندہ مان لوں
جذبۂِ احساس جس کا مر گیا
؎ ہاتھ پھیلانے کی مہلت کب ملی
میں تو بس یہ سوچ کر ہی مر گیا
؎ پہلی بارش میں دراڑیں پڑ گئیں
دوسری بارش میں میرا گھر گیا
فیاض علی فیاض دردِ دل کی واحد دوا سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کے دو شعر ملاحظہ فرمائیے:
؎ موسموں سے بچا لیا میں نے
دل کو پتھر بنا لیا میں نے
؎جونہی سجدے میں دل جھکا میرا
اپنی ہستی کو پا لیا میں نے
اپنے دردِ دل کو وہ شعری قالب میں اس طرح ڈھالتے نظر آتے ہیں:
؎دل میں ہم پیار لے کے نکلے ہیں
خواہشِ دار لے کے نکلے ہیں
؎اس کی محفل سے آج تو ہم بھی
اپنا انکار لے کے نکلے ہیں
عہدِ حاضر کا اک اور مسٔلہ کہ جو سنجیدہ اور بُردبار شخصیات کو پریشان رکھتا ہے اسے وہ اس طرح تحریر کرتے ہیں:
؎مفقود ہے اس شہر میں کیا ذوقِ سماعت
جس شخص کو دیکھو وہ فقط بول رہا ہے
فیاض علی فیاض اپنے عہد کی سفاک اور منافقت بھری فضا سے پوری طرح واقف ہوتے ہوئے بھی اس عہد میں جینے کا ہنر جانتے ہیں۔
؎شاید ترے لہجے کا بھی کچھ اس میں اثر ہے
اس بار مرے زخم کی لذت ہی جدا ہے
وہ لذتِ غم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنے شعور اور لاشعور دونوں کو صلے کی توقعات سے خالی اور اپنی خواہشات کے در ہمیشہ مقفل رکھتے ہیں کہ ان دروازوں کے تمام رستے آگے جا کر کسی نہ کسی درد بھری راہداری سے جا ملتے ہیں اور ہم یہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو اس حقیقت سے آشنا ہو کر ایک منفرد انداز میں جینا سیکھ لیتا ہے اس کی تخلیقی قوت میں ایک غیبی امداد بھی شامل ہو جاتی ہے اور اشعار میں ایک الہامی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
دُدویش صفت شاعر فیاض علی فیاض کا صوفیانہ مزاج اس ایک قطرۂِ خوں کی اہمیت سے بخوبی واقف ہے کہ جسے دل کہتے ہیں۔ دل جو خدا کا گھر ہے اور بنیادی طور پر شفاف، معطر اور پرنور مزاج رکھتا ہے یہی وجہ ہے فلاحِ انسانی اور انسان کے لئے خطرات سے بچنے کے تمام اشارے پروردگار اسی دل کو بھیجتا ہے۔ ان اشارات پر اگر توجہ دی جائے تو انسان بڑے سے بڑے خطرے سے بچ سکتا ہے۔ شعر ملاحظہ فرمائیے:
؎ہمیشہ دماغوں کا سودا ہؤا
یہ دل ہے جو بِکتا نہیں ہے کبھی
؎اسے حافظے کی ضرورت نہیں ہے
جسے جھوٹ لکھنے کی عادت نہیں ہے
فیاض علی فیاض انسانی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں۔ شعر ملاحظہ فرمائیں:
؎روک دیتا ہے وہ سب کا راستہ
جس کو کوئی راستہ ملتا نہیں
؎ایسا موسم ذہنوں پر کیوں بار نہ ہو
پھول کھلے ہوں شاخوں پر مہکار نہ ہو
؎گھر کے مکینوں کچھ ایسی تدبیر کرو
پیڑ لگے ہوں آنگن میں دیوار نہ ہو
اپنے اس شعر میں وہ خواہشات کے بوجھ تلے دبی ہوئی زندگی کی بے کیفی کو انتہائی خوبصورتی سے رقم کرتے ہیں:
؎اس کے شانے جھک گئے ہیں حسرتوں کے بوجھ سے
رحم آتا ہے مجھے تو زندگی کو دیکھ کر
ریحانہ احسان کراچی