MOJ E SUKHAN

اے ماں تری محبت کو ہے سلام میرا

اے ماں تری محبت کو ہے سلام میرا
تیرے ہی دم سے روشن دنیا میں نام میرا

جب ڈر کے بھاگتا ہوں دنیا کی وحشتوں سے
ملتا ہے چین مجھ کو تیری ہی قربتوں سے

سایا ہے تو شجر کا چشمہ محبتوں کا
رکھا ہے تو نے پردا میری حماقتوں کا

تیری دعا کا سایا ہے سر پہ میرے جب تک
دے گا امان مجھ کو سورج کا لمس تب تک

قدموں میں تیرے جنت اللہ نے رکھی ہے
عظمت کی یہ کہانی قدرت نے خود لکھی ہے

اے ماں تری حقیقت ہے پیار کا سمندر
تو نے کیا ہے مجھ کو ہر گام اک سکندر

اے ماں تری محبت کو ہے سلام میرا
تیرے ہی دم سے روشن دنیا میں نام میرا

نسیم شیخ

Facebook
Twitter
WhatsApp