MOJ E SUKHAN

میرے مٹھو میاں میرے مٹھو میاں

اب مٹھو میاں میرے مٹھو میاں اب
اداسی کا چہرے پہ کیوں ہے نشاں اب

کرو ٹیں ٹیں نقلیں ہماری اتارو
پروں کو ہوا میں ذرا پھڑ پھڑا دو

خفا کس لیے ہو ذرا سا بتا دو
ذرا چونچ اپنی سنو تم ہلا دو

خفا ہونا ایسے نہیں ہوتا اچھا
یوں چپ چاپ رہنا نہیں ہوتا اچھا

اے مٹھو میاں میرے مٹھو میاں اب
اداسی کا چہرے پہ کیوں ہے نشاں اب

نسیم شیخ

Facebook
Twitter
WhatsApp