MOJ E SUKHAN

بلبل

بلبل

میں ہوں چہکنے والی بلبل
میرے لیے ہی کھلتے ہیں گل

گیت سناتی ہوں پھولوں کو
گلے لگاتی ہوں پھولوں کو

آواز ایسی سریلی پائی
میری بولی سب کو بھائی

دم پھولوں کا بھرتی ہوں میں
پھولوں پر ہی مرتی ہوں میں

میرے لے ہر اک کو بھائی
خوش ہے مجھ سے ساری خدائی

شاعر ہیں مشرق میں جتنے
گن گاتے ہیں سب ہی میرے

ظاہر میں ہوں چھوٹی لیکن
سارا چمن سونا ہے مجھ بن

لڑکو تم تو خود ہو دانا
بھید یہ کیا اب تم کو بتانا

میری صدا دل کش ہے جو اتنی
بات بڑی اس میں نہیں کوئی

دی ہے یہ نعمت مجھ کو خدا نے
موہ لیے دل میری صدا نے

کون خدا وہ سب کا مولا
جس نے اس دنیا کو بنایا

مینہ برسایا پودے اگائے
رنگ برنگے پھول کھلائے

جن کی بھینی بھینی بو سے
جنگل مہکے گلشن مہکے

ہے وہ دو عالم کا رکھوالا
کہتے ہیں جس کو باری تعالی

ہم سب کا مالک وہ خدا ہے
ماں باپ اور بھائی سے سوا ہے

گاتی ہوں گیت اس کے ہر دم
جس نے بنایا ہے یہ عالم

گیت اسی کے تم بھی گاؤ
اپنے رب کو بھول نہ جاؤ

جوہرؔ پھر دنیا ہے تمہاری
سنتا ہے سب کچھ وہ ہماری

فضل خدا کا جب ہو جائے
جو مانگے انسان وہ پائے

بنے میاں جوہر

Facebook
Twitter
WhatsApp