بھاگ کر مکتب سے جو بچپن گزاریں کھیل میں
وہ بڑے ہو کر پہنچ جاتے ہیں اکثر جیل میں
ان سنی کرتے ہیں جو باتیں بزرگوں کی یہاں
ایسے بچے بن کو رہ جاتے ہیں عبرت کا نشاں
بات کاٹیں جو بڑوں کی خود کو سمجھیں جو بڑا
زندگی دیتی ہے ان کو ہر قدم پر بس سزا
وقت کی جس نے بھی تھامی ڈور اس کی زندگی
ایسے ہو جاتی ہے جیسے تیرگی میں روشنی
ضد سے اپنی بات منواتے ہیں جو ماں باپ سے
دور ہو جاتے ہیں وہ اکثر یہاں ماں باپ سے
جو بڑوں کی بات سن کر بات کو جھٹلائے گا
ہر قدم پر زندگی کے ٹھوکریں وہ کھائے گا
نسیم شیخ