MOJ E SUKHAN

بھاگ کر مکتب سے جو بچپن گزاریں کھیل میں

بھاگ کر مکتب سے جو بچپن گزاریں کھیل میں
وہ بڑے ہو کر پہنچ جاتے ہیں اکثر جیل میں

ان سنی کرتے ہیں جو باتیں بزرگوں کی یہاں
ایسے بچے بن کو رہ جاتے ہیں عبرت کا نشاں

بات کاٹیں جو بڑوں کی خود کو سمجھیں جو بڑا
زندگی دیتی ہے ان کو ہر قدم پر بس سزا

وقت کی جس نے بھی تھامی ڈور اس کی زندگی
ایسے ہو جاتی ہے جیسے تیرگی میں روشنی

ضد سے اپنی بات منواتے ہیں جو ماں باپ سے
دور ہو جاتے ہیں وہ اکثر یہاں ماں باپ سے

جو بڑوں کی بات سن کر بات کو جھٹلائے گا
ہر قدم پر زندگی کے ٹھوکریں وہ کھائے گا

نسیم شیخ

Facebook
Twitter
WhatsApp