MOJ E SUKHAN

جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہے

غزل

جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہے
وہ شب پرستوں نے محفل میں تیرگی کی ہے

حدیث ظلم و ستم ہے ہنوز نا گفتہ
ہنوز مہر زبانوں پہ خامشی کی ہے

اس ایک جام نے ساقی کی جو عطا ٹھہرا
سکوں دیا ہے نہ کچھ درد میں کمی کی ہے

ہمیں یہ ناز نہ کیوں ہو کہ نے نواز ہیں ہم
ہمارے ہونٹوں نے ایجاد نغمگی کی ہے

چمن میں صرف ہمیں راز داں ہیں کانٹوں کے
گلوں کے ساتھ بسر ہم نے زندگی کی ہے

فراق یار نے بخشی ہے وصل کی لذت
خیال یار نے ظلمت میں روشنی کی ہے

ہیں جس کی دید سے محروم آج تک خاورؔ
اسی کی ہم نے تصور میں بندگی کی ہے

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم