MOJ E SUKHAN

خلق سے پہلے بتا دے کیا ترا موضوع ہے

غزل

خلق سے پہلے بتا دے کیا ترا موضوع ہے
چترکارا سن یہاں تازہ کشی ممنوع ہے

پھول نظارے سے آگے روشنی کرنے کی شے
رنگ کی کاری گری میں آگ بھی مجموع ہے

دشت میں اے شہہ تری ہرگز عمل داری نہیں
یہ عزا خانہ دیار حکم سے مرفوع ہے

زائچہ سازا ہمارے خواب کی تقطیع کر
فال گیرا یہ بتا کیا اب دعا مسموع ہے

وہم کا سورج ہوں میرا کیا تعین ہو سکے
اس تیقن گاہ میں میری کرن مقطوع ہے

جل بجھی ہوگی کسی ڈھیری میں سرکنڈوں کی آگ
کاتب من حوصلہ رکھ اب سخن مطبوع ہے

احمد جہانگیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم