MOJ E SUKHAN

شام کا منظر بنے میاں جوہر

شام کا منظر

شام ہوئی ہے سورج ڈوبا
رنگ زمانے کا ہے بدلا

شام سہانی دیکھو آئی
کیسا سہانا وقت ہے لائی

دل کو لبھا لیتا ہے کیسا
چین ہمیں دیتا ہے کیسا

شام کا اچھا اچھا منظر
دل کو لبھانے والا منظر

گھر کو چلا ہے کھیتی والا
محنت سے سب تن ہے کالا

بیل بھی چھوڑا ہل بھی چھوڑا
گھر کی جانب منہ کو موڑا

ہانکا وہ بیلوں کو اپنے
چلا وہ گھر کو دھیمے دھیمے

کھیت سے اپنے گھر کو سدھارا
لے گا اب آرام بچارا

بیلوں کو کھونٹوں سے باندھا
سامنے ان کے بھوسہ ڈالا

بیٹھا خود بچوں میں جا کر
کیسا خوش ہے اس کا گھر بھر

ادھر ادھر سے چڑیاں اڑ کر
آ بیٹھیں شاخوں کے اوپر

اب یہ شب بھر لیں گی بسیرا
صبح کو پھر کھیتوں کا پھیرا

جھیل کنارے آ کر بیٹھی
دم لینے کو ہر مرغابی

تم بھی بچو کھیلنا چھوڑو
اپنے اپنے گھر کو چل دو

سارا دن راحت سے گزرا
جوہرؔ شکر کرو خالق کا

بنے میاں جوہر

Facebook
Twitter
WhatsApp