غزل
غم زدہ کتنا ہمارے ذہن کا سایہ رہا
سنگ زار فکر و فن سے خود کو ٹکراتا رہا
میں تفکر کے اندھیرے غار میں بیٹھا رہا
پاس میرے واہموں کے شیر کا ڈیرا رہا
حرص کے خورشید کی ایسی پذیرائی ہوئی
عظمتوں کے آسماں کا رنگ پھیکا سا رہا
لفظ کی بارش میں ساری روشنائی دھل گئی
وقت کا قرطاس پہلے کی طرح سادہ رہا
ہٹ کے محور سے خلا میں کتنے تارے گم ہوئے
گردشوں میں آگہی کا ایک سیارہ رہا
زندگی کی زہر ناکی ختم ہو جاتی مگر
خواہشوں کے ناگ سے میں خود کو ڈسواتا رہا
ہم نے جامیؔ گھر کے اندر عافیت محسوس کی
خوف کا سایہ پس دیوار لہراتا رہا
عبدالمتین جامی