MOJ E SUKHAN

لاکھوں دنوں کے بوجھ تلے غم رسیدہ لوگ

غزل

لاکھوں دنوں کے بوجھ تلے غم رسیدہ لوگ
اپنی تلاش میں ہیں رواں سر بریدہ لوگ

دھاگے خوشی کے اپنے بدن سے لپیٹ کر
زخموں کی بستیوں میں رہے آب دیدہ لوگ

بحران میرے اسم کو دے کر چلے گئے
جو میرے عہد میں تھے کبھی ناشنیدہ لوگ

پگھلا ہوا ہے ذہن تقاضوں کی دھوپ سے
محفل میں ہنس رہے ہیں مگر شب گزیدہ لوگ

اک عہد کے سفر میں انا بھی شریک تھی
لیکن اسے سمجھ نہ سکے بے عقیدہ لوگ

وہ میرے ہی خیال کے روشن نشان ہیں
لفظوں میں جو بیان ہوئے خط کشیدہ لوگ

میرے لہو کو چھین کے بازار میں بکے
تاجر مرے شعور کے طاہرؔ ندیدہ لوگ

طاہر حنفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم