MOJ E SUKHAN

محبت داستاں ہوتے ہوئے بھی

محبت داستاں ہوتے ہوئے بھی
حقیقت ہے گماں ہوتے ہوئے بھی

بہالیتا ہے اپنے ساتھ اکثر
سمندر مہرباں ہوتے ہوئے بھی

نجانے دھوپ میں کیوں جل رہے ہیں
پرندے آشیاں ہوتےہوئے بھی

دلوں میں رقص کرتے ہیں ستارے
غبار کہکشاں ہوتےہوئے بھی

گھروندوں سے دھواں اٹھنے لگا ہے
سروں پر سایباں ہوتے ہوئے بھی

پہنچ پاتے نہیں ہیں لوگ اس تک
کئی نام و نشاں ہوتے ہوئے بھی

دلوں کے بھید وہ ہی جانتا ہے
زمانہ راز داں ہوتے ہوئے بھی

بہت شکوے گلے تھے انجمن میں
خموشی کی زباں ہوتے ہوئے بھی

شکست اب تک مقدر میں لکھی ہے
بہت سے امتحاں ہوتےہوئے بھی

ہمیشہ زخم ہی ملتے رہیں گے
میرے تیر و کماں ہوتے ہوئے بھی

یہ دل اب بھی تمھارا منتظر ہے
اسیر کارواں ہوتے ہوئے بھی

ریحانہ احسان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم