MOJ E SUKHAN

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

غزل

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے
پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے

چلی آتی ہے ہونٹوں پر شکایت
ندامت ٹپکی پڑتی ہے جبیں سے

اگر سچ ہے حسینوں میں تلون
تو ہے امید وصل ان کی نہیں سے

کہاں کی دل لگی کیسی محبت
مجھے اک لاگ ہے جان حزیں سے

ادھر لاؤ ذرا دست حنائی
پکڑ دیں چور دل کا ہم یہیں سے

جنوں میں اس غضب کی خاک اڑائی
بنایا آسماں ہم نے زمیں سے

وہاں عاشق کشی ہے عین ایماں
انہیں کیا بحث انورؔ کفر و دیں سے

انور دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم