MOJ E SUKHAN

پھول سے معصوم بچوں کی زباں ہو جائیں گے

پھول سے معصوم بچوں کی زباں ہو جائیں گے
مٹ بھی جائیں گے تو ہم اک داستاں ہو جائیں گے

میں نے تیرے ساتھ جو لمحے گزارے تھے کبھی
آنے والے موسموں میں تتلیاں ہو جائیں گے

کیا خبر کس سمت میں پاگل ہوا لے جائے گی
جب پرانے کشتیوں کے بادباں ہو جائیں گے

تجھ کو شہرت کی طلب اونچا اڑا لے جائے گی
دور تجھ سے یہ زمین و آسماں ہو جائیں گے

یاد آئے گی انہیں کیا کیا ہماری بے حسی
جب ہمارے عہد کے بچے جواں ہو جائیں گے

میرے نغمے میری خاطر کچھ بھی ہوں والیؔ مگر
آگ برساتی رتوں میں بدلیاں ہو جائیں گے

والی آسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم