MOJ E SUKHAN

چڑھتے طوفان کو ساحل سے گزرنا تھا میاں

چڑھتے طوفان کو ساحل سے گزرنا تھا میاں
ریت کے گھر کو بہرحال بکھرنا تھا میاں

کب تلک پاؤں کو توڑے ہوئے بیٹھا رہتا
راہ دشوار سے رہرو کو گزرنا تھا میاں

اتنے مانوس تھے صیاد سے جاتے نہ کہیں
قید میں پر نہ پرندوں کے کترنا تھا میاں

جب نہ سمجھے تو پھر اب چھیڑ کے پچھتانا کیا
چشم نمناک میں ابلا ہوا جھرنا تھا میاں

عشق کے گہرے سمندر میں گئے کیوں انورؔ
اتھلے پانی میں اگر ڈوب کے مرنا تھا میاں

انور جمال انور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم