* کتب مینار *
• فروغ نعت •
تحریر ڈاکٹر شبیر احمد قادری ، فیصل آباد
کراچی سے شاعر حمد و نعت جناب طاہر حسین طاہر سلطانی کی عطا ۔اس کتاب میں اردو میں ترویج حمد کے لیے جاری ہونے والے پہلے دو رسالوں ” کتابی سلسلہ "جہان حمد” کراچی (سال اجرا : 1998ء) اور ماہنامہ ” ارمغانِ حمد” کراچی ( ماہ و سال اجرا: فروری 2004 ء) میں شامل نعتیہ سرماۓ سے متعارف کرانے کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ دیباچے ڈاکٹر ریاض مجید ، ڈاکٹر شبیر احمد قادری ، شبیر احمد انصاری نے لکھے ہیں ۔ امریکہ میں مقیم ممتاز پاکستانی شاعر جناب تنویر پھول نے دو قطعات تاریخ اشاعت ہجری و عیسوی کا اہتمام کیا ہے ۔ موصوف تاریخی قطعہ نگاری میں خاص مہارت رکھتے ہیں ۔ مرتب و مدیر شاعر حمد و نعت طاہر حسین طاہر سلطانی نے ” عرض طاہر : فروغ نعت ، چند باتیں” اور بعد ازاں ” فروغِ نعت : کچھ اپنے ، کچھ ادارے کے بارے میں ” کے زیر عنوان ابتدائیے قلم بند کیے ہیں ۔ ” عرض طاہر ” میں موصوف نے ذکر رحمت للعلمین کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے اور فارسی اور اردو کے ممتاز ناعتین کی خدمات کو سراہا ہے ۔ ثانی الذکر مضمون میں طاہر سلطانی نے حمد و نعت کی جانب اپنی رغبت کا بالاختصار ذکر کرتے ہوۓ ان اداروں سے متعارف کرانے کی سعی کی ہے جن کا قیام ان کی ذاتی کوششوں اور لگن کا نتیجہ ہے ۔ اس ضمن میں پہلے ” انجمن غلامان مصطفیٰ” کراچی ( قیام کا سال : 1970 ء ) کا ذکر کیا ہے 1984ء میں جس کا نام بدل کر ” ادارہ چمنستان حمد و نعت ” رکھ کر اسے رجسٹر کرایا گیا ۔ اس کی نوعیت ٹرسٹ کی ہے ۔ نیز ” جہان حمد پبلی کیشنز ” کراچی کے تحت مدحیہ ادب پر مبنی کتب و رسائل کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ خدمت حمد و نعت سے سرشار طاہر سلطانی نے اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ حمد و نعت ریسرچ سنٹر کراچی کے قیام کا مستحسن فیصلہ کیا نیز فروغ تعلیمات قرآن حکیم کے لیے 1989ء میں ” حضرت علی مدرسۃ القرآن” ، ” غوثیہ مدرسہ حمد و نعت ” نژاد نو کو حمد و نعت سکھانے کا فریضہ ادا کر رہا ہے ۔ قومی و بین الاقوامی حمد و نعت کانفرنسوں کا تذکرہ الگ باب کا تقاضہ کرتا ہے ۔ کتابی سلسلہ” جہان حمد” کراچی اور ماہنامہ” ارمغانِ حمد” کراچی نام کے دو رسالوں کے اجرا کی بدولت حمد ، مناجات ، نعت اور مناقب پر مشتمل مضامین و مقالات کی اشاعت کے کام میں اور تیزی آ گئی ۔ ” جہان حمد” کو اس ضمن میں ممتاز مقام حاصل ہے جسے ایک شمارہ ایک کتاب کی بنیاد پر شائع کیا جاتا ہے ۔ دیباچہ نویس ڈاکٹر ریاض مجید کے مطابق : ” طاہر سلطانی کا تخصص ادارت بلا شبہ حمد کے حوالے سے ہے مگر نعت کے بارے میں بھی ان کی بہت خدمات ہیں ۔ نعت پر نقد و نظر ، ترتیب ، تحقیق ، نعتیہ محافل کہنے کا ترہی مصروں پر نعتیہ مشاعروں کا انعقاد ہمد کے ساتھ نعت کی کتب پر تبصرہ جات ، خبر اخبار اور ذکر اذکار کا ایک بڑا سلسلہ ہے جو طاہر سلطانی سے وابستہ ہے "اوڑھنا بچھونا” کا محاورہ معنوی طور پر درست ہوتے ہوئے بھی حمد و نعت کے ذیل میں لفظاً مناسب معلوم نہیں ہوتا ، مبتلائے حمد و نعت کے الفاظ بھی مناسب نہیں ۔ فنا فی الحمد و نعت ” کی اصطلاح بھی اپنے اندر ‘سکر’ کی کیفیات رکھتی ہے جو طاہر سلطانی کے خیالات و جذبات اور کارکردگی کی ترجمانی نہیں کرتی ۔ علامہ اقبال کا ایک شعر ہے :
خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں
مگر یہ حوصلہ مرد ہیچ کارہ نہیں
ادارتی اور تنظیمی ذمہ داریاں وابستگان کو مکمل مجذوب بھی ہونے نہیں دیتیں ۔ انہیں انجمنیں چلانا ، عظیم الشان کانفرنس سے منعقد کرنا ، رسالے کی اشاعتی مصروفیات ان کے لیے مکمل حالت ‘صحو’ میں رہنے کی ضرورت ہے پھر آج کل جو معاشرتی مسائل کی آندھیاں چلتی ہیں ان میں سب سے ظالم آندھی مالی (روپے پیسے کی) ہے اس کے لئے جو محنت و مشقت ، تعلق سازی درکار ہے اس کے لئے بھی مدیران اور کانفرنس کے انعقاد فرماؤں کو مسلسل مصروف رہنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ وہ ہمہ وقت ان دفتری اور مدیرانہ مصروفیات میں گم رہنے کے باوجود حمد و نعت نگاری کے لیے بھی وقت نکال لیتے ہیں اگر وہ تنظیمی ذمہ داریوں سے یوں جڑے نہ رہتے جیسے کہ کئی برسوں سے ہیں تو وہ تخلیقی طور پر کئی اور کتابیں بھی ضرور مرتب کرتے ۔۔۔ زیر نظر مقالہ ” فروغ نعت” ان کی مساعی جمیلہ کی مختصر روداد ہے ۔ حمد و نعت سے یہ وابستگی ہی اب ان کی زندگی ہے ۔ فرہاد جیسی مستقل محنت کا ثمرہ اور خلاصہ یہ فروغ نعت ہے ۔” ( ص 9-10-11) ،
ڈاکٹر شبیر احمد قادری نے اپنے دیباچے میں ایک مقام پر لکھا ہے : ” طاہر سلطانی نے اپنی تخلیقی ، انتخابی اور انتظامی خدا داد صلاحیتیں صرف فروغ حمد ہی کے لیے نہیں بلکہ اشاعت نعت کے لیے بھی وقت رکھیں ۔ زیر نظر مقالہ جناب عابد رشید کی فرمائش پر "حریم نعت” کے تحت منعقدہ پہلی نعت کانفرنس شکاگو ، امریکہ کے لیے تحریر کیا گیا ۔ عرض طاہر میں جناب طاہر سلطانی نے حمد و نعت کے فروغ کے لیے جو سات نکات پیش کیے ہیں وہ ان کی دقت نظر ، دور اندیشی اور موضوع سے انت کی لگن اور قابل صد رشک وابستگی کے مظہر ہیں ۔ ان نکات کے مطالعے سے نہ صرف ان کے لیے اپنے نیک اور مثبت ارادوں کا علم ہوتا ہے بلکہ ان کی روشنی میں دیگر ارباب فکر و دانش بھی اپنا مثبت اور موثر کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ زیر نظر کتاب دو حصوں میں منقسم ہے :
سہ ماہی "جہان حمد” (کتابی سلسلہ) کے نعت نمبر ایک نظر میں ۔ اس حصے میں چار شماروں کی فہارس اور اداریے شامل ہیں ۔
ماہنامہ "ارمغان حمد” کے نعت نمبر ایک نظر میں ۔ اس حصے میں سات شماروں کی زینت بننے والے اداریوں کے بعد دیگر ضروری تفصیلات بہم پہنچائی گئی ہیں ۔ محولہ بالا دونوں رسالوں کے اداریے اختصار کے باوصف اپنے اندر ایک جہان کیف رکھتے ہیں ۔ "جہان حمد” شمارہ نمبر سترہ کے اداریے (پہلی بات) کی ابتدا میں لکھا ہے : ” نعت رسول مقبول اللہ عزوجل کی سنت ہے ۔ اس اہم سنت پر انبیاء کرام ، صحابہ کرام ، علمائے کرام ، مشائخ عظام نے انتہائی عقیدت و محبت سے عمل کیا ۔ عظیم ہستیوں نے حمد باری تعالیٰ کے بعد نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خاص وظائف میں شامل کیا ۔ حمد و نعت دنیا کی ہر زبان میں ، ہر صنف میں کہی جا رہی ہے ۔ ہمارا مقصد حیات تو یہ ہے کہ زندگی کی بقیہ سانسوں کو فروغ حمد و نعت کے لیے وقف کر دیا جائے اور ان مقدس اصناف سے وابستہ خوش نصیب شخصیات کی خدمات کو سراہا جائے نیز ان حضرات کے کارہائے نمایاں کو اجاگر کیا جائے ۔” شاعری کے ساتھ ساتھ طاہر حسین طاہر سلطانی کے مضامین و مقالات ، تبصروں ، اداریوں میں بھی تاثیر الفت موجود ہے ۔ ایک مہر رخشاں ہے جس کی کرنوں سے ان کی کائنات فکر و نگاہ روشن ہے ۔ طاہر سلطانی کی اس کتاب میں شامل تحریروں کی سطر سطر سے نقوش محبت اجاگر اور فروزاں ہیں ۔ اللہ کرے ان کا گلشن فکر و نظر ہمیشہ بہار دوست رہے اور ان کے قلب و نظر کے ساتھ ساتھ قلم قرطاس صیقل گر ماحول اور نشاط و طراوت خیز رہے ۔ آمین ثم آمین ۔” ( دیباچہ ، ص 16-17-18) ،
شبیر احمد انصاری نے ” دشت طلب کا تنہا مسافر” کے زیر عنوان اپنے مضمون میں طاہر سلطانی اور ان کے متعلقین کی کاوشوں کو بھی سراہا ہے ۔ والدین ، زوجہ محترمہ ، اساتذہ کرام ، فرزندگان ارجمند ، دخترانِ نیک اختر کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور محمد منیر طاہر ، محمد سلیمان طاہر ، حافظ محمد نعمان طاہر ، طلعت فاطمہ ، صدف فاطمہ ، محمد عبد الرحمٰن طاہر ، محمد عبداللہ حسان طاہر کی مساعی جمیلہ کا ذکر کرتے ہوۓ ان کی مزید کامیابیوں کے لیے دعا کی ہے ۔ شبیر احمد انصاری کی یہ راۓ صد فی صد درست ہے : ” طاہر سلطانی نے مختلف انداز اور جہتوں کے ساتھ ترویج حمد و نعت کی جن کوششوں اور سرگرمیوں کی ” قلمیں” آج سے نصف صدی قبل لگائی تھیں ۔ آج وہ سب ہری بھری ہو رہی ہیں ۔ ان میں پھول کھل رہے ہیں اور خوشبوئیں آ رہی ہیں ۔۔۔ ” ص 33-34) ،
اس کتاب میں ” جہان حمد”( کتابی سلسلہ) کے نعت نمبرز ، ماہنامہ” ارمغانِ حمد” کے نعت نمبرز کی فہرستیں شائع کی گئی ہیں ۔ شاعر حمد و نعت طاہر سلطانی نے اظہار تشکر کیا ہے اور ڈاکٹر سہیل شفیق نے ” جہان حمد ایک نظر میں اور ” ارمغانِ حمد ” کے نام سے دو مضامین لکھے ہیں شبیر احمد انصاری نے ” طاہر سلطانی ( شاعر حمد و نعت) ایک نظر میں” کے زیر عنوان ان کے کوائف ترتیب دیے ہیں ۔اعتراف کمال کے بعد ” حضرت علی حیدر مدرسۃ القرآن: ایک اجمالی جائزہ” اور ” غوثیہ مدرسہ حمد و نعت: اجمالی جائزہ ” بھی جزو کتاب ہیں ۔
سہ ماہی ” جہان حمد” ( کتابی سلسلہ) کے جن نعت نمبروں کے مندرجات سے متعارف کرایا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں :
~ ” جہان حمد” شمارہ نمبر 6 ، نعت نمبر ، مئی 2001 ، صفحات 448 ،
~ ” جہان حمد” شمارہ نمبر 7 ، نعت نمبر ، مئی 2001 ، صفحات 224 ،
~ ” جہان حمد ” شمارہ نمبر 13 ، نعت نمبر ، مئی 2004ء صفحات 245 ،
~ ” جہان حمد” ، شمارہ نمبر 17 ، نعت نمبر ( صاحب کتاب نعت گویان اردو پنجاب) ، ستمبر 2007 ء ، صفحات 272 ،
بعد ازاں” جہان حمد ” کے شمارہ نمبر 22 کے رسول اعظم نمبر ( چھ جلدوں) کا اداریہ اور مکمل فہرست شامل کی گئی گئی ہے ۔
ماہنامہ ” ارمغانِ حمد” کراچی کے درج ذیل نعت نمبروں کی تفصیلات بہم پہنچانے کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ شمارے یہ ہیں :
– ” ارمغانِ حمد” شمارہ نمبر 4 ، نعت نمبر ، مئی 2004 ، صفحات 80 ،
– ” ارمغانِ حمد” ، شمارہ نمبر 9 ، صلی اللہ علیہ وسلم , اکتوبر 2004 ء ، صفحات 136 ،
– ” ارمغانِ حمد” شمارہ نمبر 15 ، رحمۃ للعالمین نمبر ، اپریل 2005 ء ، صفحات 112 ،
– ” ارمغانِ حمد ” ، شمارہ نمبر 26 ، میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر ، مارچ 2006 ء ، صفحات 112 ،
– ” ارمغانِ حمد” ، شمارہ نمبر 50 ، میلا النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر ، مارچ 2008 ء ، صفحات 144 ،
– ” ارمغانِ حمد” ، شمارہ نمبر 62 ، سلام گنبد خضرا ، مارچ 2009 ء ، صفحات 96 ،
– ” ارمغانِ حمد” شمارہ نمبر 112-113 ، نعت رحمت ، نعتیہ انتخاب ، مئی تا جولائی 2013 ء ، صفحات 722 ،
تنویر پھول کے قطعات سال اشاعت ملاحظہ ہوں :
قطعہ تاریخ ہجری
ہر طرف تنویر پھیلی ہے فرغ نعت کی
منبع انوار حمد و نعت طاہر کا قلم
کام ہے ان کا منظم ، اک ادارہ ان کی ذات
پھول ! تم تاریخ کہہ دو اس کی ” تنظیم اہم”
1446 ہجری
قطعہ تاریخ عیسوی
شاعر حمد و نعت کی یہ کتاب
پھول! عمدہ ہے ، اس کی بات کہو
فکر طاہر کی آب و تاب اس میں
” آب طاہر ، فروغِ نعت” کہو
2024 ء
جناب شارق رشید نے فروغِ نعت کے زیر عنوان منظوم خراج تحسین کا اہتمام کیا ہے پہلے تین شعر ملاحظہ ہوں :
فروغ نعت کی بنیاد کس نے رکھی ہے ؟
یہ کس نے مومنوں کو دی درود کی ترغیب
ابد تلک کے لیے کس نے بھیجا ہے قرآن ؟
یہ کس نے کی ہے ہمیں نعت کہنے کی تلقین
یہ کس نے آقا کی سیرت بتائی ہے ہم کو
یہ کس نے آقا کی عظمت بتائی ہے ہم کو
(” فروغِ نعت "، ص45 )
224 صفحات پر مشتمل اس کتاب سے طاہر سلطانی کی حمد جے ساتھ ساتھ فروغِ نعت گوئی کے لیے کی گئی کاوشوں اور مساعی سے بھرپور انداز میں متعارف ہوئے کا موقع ملتا ہے ۔ موضوعاتی اعتبار سے ان کے کام کی نوعیت ہمہ گیر اور منضبط ہے جس کی جس قدر تحسین کی جاۓ وہ کم ہے ۔ یہ کتاب ربیع الاوّل 1446 ھ ، ستمبر 2024 ء کو جہان حمد پبلیکیشنز ، 2/19 نوشین سنٹر ، اردو بازار ، کراچی کے تحت شائع کی گئی ہے ۔براۓ رابطہ : 03002831089 ، تقسیم کار : ادارہ چمنستان حمد و نعت ٹرسٹ ( رجسٹرڈ) کراچی اور حمد و نعت ریسرچ سنٹر ، کراچی ہیں ۔
محترم طاہر سلطانی صاحب ! ” فروغِ نعت” کی ترتیب و اشاعت اور پیشکش پر آپ کے لیے حرف تحسین اور گل ہاۓ تبریک ۔ شریک مطالعہ کرنے پر آپ کا بے حد شکریہ ۔
{ ڈاکٹر شبیر احمد قادری ، فیصل آباد ، پاکستان }