MOJ E SUKHAN

ہم آئنے میں جوانی تلاش کرتے رہے

غزل

ہم آئنے میں جوانی تلاش کرتے رہے
محبتوں کی کہانی تلاش کرتے رہے

ہمارے دل پہ عجب اضطراب طاری رہا
نظر نظر میں کہانی تلاش کرتے رہے

شعور ماضی کے کرب و بلا میں الجھا رہا
شراب ہم بھی پرانی تلاش کرتے رہے

ہمارے عزم کی بنیاد کتنی گہری تھی
وہ اک گھڑی تھی سہانی تلاش کرتے رہے

نصیحتوں کا اثر ہم پہ خاک بھی نہ ہوا
کسی کی بات نہ مانی تلاش کرتے رہے

ترے فراق میں رونا بہت ضروری تھا
ہم اپنی آنکھ میں پانی تلاش کرتے رہے

تمہارے قرب کے موسم کدھر گئے طارقؔ
کدھر گئی وہ جوانی تلاش کرتے رہے

اقبال طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم