MOJ E SUKHAN

محبتوں کے پلے کیسے نفرتوں میں ڈھلے

محبتوں کے پلے کیسے نفرتوں میں ڈھلے
یہ سوچ سوچ کے ہم شہر تیرا چھوڑ چلے

اسی خیال سے کرتا نہیں پر افشانی
مرے پروں کی رگڑ سے کہیں فلک نہ جلے

یہ کہہ رہی تھی حسینہ تماش بینوں سے
جو آپ لوگ ہیں اچھے تو ہم برے ہی بھلے

حیات و موت کہانی ہے سائبانوں کی
کبھی فلک کے تلے ہم کبھی زمیں کے تلے

ترے فراق کے صدمے قبول ہیں لیکن
جفا کے بعد چلے تو وفا کا دور چلے

یہ جانشین قمر میری دسترس میں نہیں
دیے کی موج ہے بجھ کر جلے جلے نہ جلے

عجب طریق سے اترا وصال کا لمحہ
پڑے ہیں جان کے لالے لگا کے اس کو گلے

جان کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم