MOJ E SUKHAN

اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے

اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے
یہ جھگڑا ہی مٹا دینا ضروری ہو گیا ہے

لہو برفاب کر دے گی تھکن یکسانیت کی
سو کچھ فتنے جگا دینا ضروری ہو گیا ہے

گرا دے گھر کی دیواریں نہ شوریدہ سری میں
ہوا کو راستہ دینا ضروری ہو گیا ہے

بہت شب کے ہوا خواہوں کو اب کھلنے لگے ہیں
دیوں کی لو گھٹا دینا ضروری ہو گیا ہے

بھرم جائے کہ جائے راہ پر آئے نہ آئے
اسے سب کچھ بتا دینا ضروری ہو گیا ہے

میں کہتا ہوں کہ جاں حاضر کئے دیتا ہوں لیکن
وہ کہتے ہیں انا دینا ضروری ہو گیا ہے

یہ سر شانوں پہ اب اک بوجھ کی صورت ہے عالؔی
سر مقتل صدا دینا ضروری ہو گیا ہے

جلیل عالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم