MOJ E SUKHAN

یہ دست ناز میں خط ترجمان کس کا ہے

یہ دست ناز میں خط ترجمان کس کا ہے
اگر نہیں ہے تمہارا بیان کس کا ہے

بساط ارض بسیط آسمان کس کا ہے
ہمارے دل میں نہاں یہ جہان کس کا ہے

یہ پھوٹ پھوٹ کے روتے ہیں کیوں در و دیوار
مکین کون تھا اس میں مکان کس کا ہے

جہاں تمہارے نشان قدم نہیں ملتے
مرا نہیں ہے اگر وہ مکان کس کا ہے

کلی کلی لب گویا شجر شجر خاموش
یہ داستان ہے کس کی بیان کس کا ہے

یہ کیوں صلیب و سلاسل بنائے جاتے ہیں
تمہارے پیش نظر امتحان کس کا ہے

نہ دشمنی کی علامت نہ دوستی کا شعور
ترے پڑوس میں شاطرؔ مکان کس کا ہے

شاطر حکیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم