MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

شہناز انجم بے ساختہ شاعرہ رشید سارب حیدرآباد

شہناز انجم بے ساختہ شاعرہ
دنیائے اردو شاعری سے مہک رہی ہے۔ یہ مہک محسوس کرنے والے کیا خوب محسوس کر جاتے ہیں،شاعری میں جہاں ہندی فارسی انگریزی عربی زبان نے اپنا کردار ادا کیا، وہیں اردو زبان نے شاعری کو پرِپرواز عطا کیے۔شاعری کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بے شمار شاعر دکھائی دیں گے جو اس دنیا میں اپنا عارضی قیام کرنے کے بعد اگلی منزل کی جانب سفر باندھ گئے مگر حیرت انگیز طور پر ان کا اسلوب لہجہ اور شخصیت شعر کی شکل میں موجود ہے۔
شہناز انجم سوئیڈن میں رہتی ہیں مگر ان کے تخیل میں مشر قیت کی ہوائیں چل رہی ہیں میں نے شہناز انجم کی شاعری کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ شہناز انجم نے شاعری کی بے تحاشہ عزت کی ہے، یہی وجہ ہے کہ شاعری کی دیوی شہناز انجم پر دیوانہ وار فدا ہے۔شہناز انجم نے قرطاس پر اگر عبادت نہیں کی ہوتی تو ایسے اشعار تخلیق نہیں ہوتے جن کے طفیل شہناز انجم کو دور حاضر کی کامیاب شاعرات میں شمار کیا جا رہا ہے۔موجِ سخن ادبی فورم کے آن لائن مشاعروں میں شہناز انجم کو سننے کے مواقع بھی ملے۔ ان کے لہجے کی سادگی برجستگی انہیں ہم عصر شاعرات میں نمایاں کرتی ہے۔
شہناز انجم کی شاعری میں کہیں کہیں تصوف کی جھلک بھی ملتی ہے تو کہیں کہیں اساتذہ کی زمینوں میں منفرد غزلیں بھی ملتی ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ان کی مشق سخن قابلِ دید ہے۔شہناز انجم سادہ نرم گو اور ہنس مکھ شخصیت کا نام ہے۔رومانی اشعار آپ کی شاعری کا رنگ دوبالہ کر رہے ہیں کچھ غزلیں شہناز انجم نے اپنے شریکِ سفر کے لیے بھی کہی ہیں جبکہ کچھ نظموں میں شہناز انجم کا شعری فن عروج پردکھائی دیا۔شہناز انجم نے وطن کی محبت میں عمدہ گیت بھی کہے ہیں جبکہ نعت حمد میں آپ کا قلم بہت احتیاط سے چلتا دکھائی دیا ہے۔مگرشہناز انجم عمدہ انداز سے نعت حمد کہنے کی ہمت کر گئیں میرا ماننا ہے کہ نعت کہنے کے لیے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اور حیرت انگیز طور پر شہناز انجم کی کہی گئی نعت و حمد یہ بتا رہی ہے کہ انہیں منتخب کر لیا گیا تب ہی ا نہیں
نعت کہنے کا اذن عطا ہوا۔شہناز انجم نے کہیں بھی روایت شکنی نہیں کی بلکہ سادہ اور سہل زبان میں روایت کو جدت کا پیرہن دیتے ہوئے نئے رنگ اور خوشبو بھرے اشعار کہے ہیں۔میری بات کی تصدیق شہناز انجم کے مندرجہ ذیل اشعار کریں گے۔
مجھے غم نہیں اب سفینے کا دل کے
فرشتے ہزاروں جو اب نا خدا ہیں
یہ کس کا ذکر ہے پھیلا ہوا فضاؤں میں
تو دل نے میرے پکارا مرے حضور کا ہے
آنکھوں کے دریچوں میں لیے حسن کی قینچی
تتلی کے تعاقب میں یہ کون آئے ہوئے ہیں
مرے پاؤں کی دھول کہتی ہے مجھ سے
ہے زندہ تھکن مجھ میں ان منزلوں کی
کسی کے وعدوں پہ اب کیا یقیں کرے انجم
جسے سمجھتی تھی اپنا وہ بے وفا نکلا
مندرجہ بالہ اشعار شہناز انجم کے شعری قد کو عکس کر رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ روایت میں کوئی نئی چیز یا نیا مضمون باندھا گیا ہے مگراتنا ضرور کہوں گا کہ شہناز انجم نے روایت کے گھر میں رہ کر عمدہ اور دل نشیں کشیدہ کاری کی ہے۔میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں آپ جیسے جیسے روزنِ احساس کا مطالعہ کریں گے آپ کو منفرد اور جامع مضامین اشعار کی صورت پڑھنے کو ملیں گے۔
شہناز انجم کی شاعری نوجوان نسل کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔شہناز انجم نے عمدہ ردیفوں کا استعمال بھی کیا ہے مگر جو بات خاص ہے وہ یہ کہ ردیف محض خانہ پری کے لیے نہیں استعمال کی بلکہ ردیفوں نے اپنا حق ادا کیا ہے۔چند اشعار یہاں پیش کرکے اجازت چاہوں گا اس دعا کے ساتھ کہ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
آنکھیں اسے ااس پار کہیں دیکھ رہی ہیں
چہرہ کوئی دیوار کے روزن میں نہیں تھا
تیرگی مہر بصارت کو نگل جائے گی
دل اسی فکر میں بیدار و حزیں رہتا ہے
دشوار میری زیست میں آئے ہیں راستے
حیرت ہے میلا تارِ انا کیوں نہیں ہوا
دکھ درد کی جب گھیر لیں گھنگور گھٹائیں
ہوتی ہے غزل عشق کے پارے میں پڑھا ہے
قسم خدا کی ارادے چٹان ہوں جن کے
انہی کے قدموں سے راہِ بقا نکلتی ہے
رشید سارب حیدرآباد سندھ
Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین