MOJ E SUKHAN

سچی بات میں کڑواہٹ ہے وہ تو ہوگی

غزل

 

سچی بات میں کڑواہٹ ہے وہ تو ہوگی
گڑیا رانی بھی منہ پھٹ ہے وہ تو ہوگی

یہ جو پیار میں دیوانے ہیں فرزانے ہیں
آج کل ان میں بھی کھٹ پٹ ہے وہ تو ہوگی

کانٹوں کا ہے پھول سے رشتہ اب دانستہ
ناری ہٹ بھی بالک ہٹ ہے وہ تو ہوگی

پیار نے شاید دھوکا کھایا دل بھر آیا
دنیا ساری الٹ پلٹ ہے وہ تو ہوگی

کانوں میں رس گھول رہی ہے بول رہی ہے
اس کے قدموں کی آہٹ ہے وہ تو ہوگی

خواب کی جنت میں رہتے ہیں سب کہتے ہیں
سر کے سامنے بھی چوکھٹ ہے وہ تو ہوگی

راج محل میں رانی زیدیؔ جیسے قیدی
ان جانی سی گھبراہٹ ہے وہ تو ہوگی

ابوالفطرت میر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم