MOJ E SUKHAN

ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے

غزل

ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے
اپنے ماحول میں خود کو دیکھے ہوئے

ایک دن ہم اچانک بڑے ہو گئے
کھیل میں دوڑ کر اس کو چھوتے ہوئے

سب گزرتے رہے صف بہ صف پاس سے
میرے سینے پہ اک پھول رکھتے ہوئے

جیسے یہ میز مٹی کا ہاتھی یہ پھول
ایک کونے میں ہم بھی ہیں رکھے ہوئے

شرم تو آئی لیکن خوشی بھی ہوئی
اپنا دکھ اس کے چہرے پہ پڑھتے ہوئے

بس بہت ہو چکا آئنے سے گلہ
دیکھ لے گا کوئی خود سے ملتے ہوئے

زندگی بھر رہے ہیں اندھیرے میں ہم
روشنی سے پریشان ہوتے ہوئے

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم