MOJ E SUKHAN

سکوت شب سے اک نغمہ سنا ہے

غزل

سکوت شب سے اک نغمہ سنا ہے
وہی کانوں میں اب تک گونجتا ہے

غنیمت ہے کہ اپنے غمزدوں کو
وہ حسن خود نگر پہچانتا ہے

جسے کھو کر بہت مغموم ہوں میں
سنا ہے اس کا غم مجھ سے سوا ہے

کچھ ایسے غم بھی ہیں جن سے ابھی تک
دل غم آشنا نا آشنا ہے

بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن
جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ہے

مجھے ہر آن کچھ بننا پڑے گا
مری ہر سانس میری ابتدا ہے

اطہر نفیس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم