MOJ E SUKHAN

تیر کہتا ہے نہیں اج میں چلنے والا

غزل

تیر کہتا ہے نہیں اج میں چلنے والا
میں بھی امکان سے اگے کو ہوں بڑھنے والا

اتنے گہرے ترے پیکر نے کئے ثبت نقوش
تیرا احساس نہیں دل سے نکلنے والا

کس نے اب شوقِ مسیحائی کی چادر اوڑھی
کون احساس کی سولی پہ ہے چڑھنے والا

کوئ تو شخص قبیلے سے بغاوت کرتا
کوئ ہوتا مرے حالات بدلنے والا

میں نے ادراک کے موتی بھی سمیٹے ہیں یہاں
تیری محفل سے نہیں اب میں نکلنے والا

میرے مولا تو مرے درد کا درماں دے دے
تیرا عمران نہیں اج تو ٹلنے والا

احمد عمران اویسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم