طنز و مزاح ” صدر محفل اور میرا جنون”
تحریر: محسن نقی

گزشتہ کچھ عرصے سے ادبی نشستوں اور مشاعروں کا ماحول خراب ہو گیا ہے ،اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ان تقاریب کو کمرشل کر دیا گیا ہے ، اب صدر محفل ، مہمان خصوصی ، مہمان اعزازی ، مہمان توقیری کے الگ الگ ریٹ مقرر ہو چکے ہیں جب اتنا برا حال ہوگیا ہے اور کیش کی آفر اور کھانا پیش کرنے پر صدارت مل رہی ہے تو میرا بھی دل کرتا ہے کہ ان تقاریب کی صدارت کروں مگر اپنی انتہائی کم علمی، اور معاشی حالات کی وجہ سے ممکن نظر نہیں آ رہا ، بہت پریشان ہو کر اپنے پرانے گمنام شاعر دوست ” قاتل پھڑک پوری” کے پاس چلا گیا اور سلام دعا کے بعد اپنی خواہش اور اس کے حل کا جواب دینے کا کہا تو میرے گمنام دوست ” قاتل پھڑک پوری” پہلے مجھے گھورنے لگے پھر قہقے لگانے لگے اور فرمایا کہ میاں ساٹھ سال سے تو ہم بھی شاعری کر رہے ہیں مگر صدر محفل تو ہمیں بھی کسی نے بنانے کی آفر نہیں کی تو پھر تم کس ادبی کھیت کی مولی ہو ؟ میں نے کہا اپنی کم علمی اور خراب معاشی حالات کو بخوبی جانتا ہوں مگر جب اس گنگا میں جمنا کے ساتھ ساتھ گنگو تیلی بھی صدارت کر رہے ہیں تو پھر میں بھی کرنا چاہتا ہوں ، فرمانے لگے ، میاں تم بابو بنے گلے میں کیمرہ لٹکائے فوٹو گرافی اور رپورٹنگ ہی ڈھنگ سے کر لو تو بڑی بات ہے ، مگر ادبی مشاعروں میں صدارت کا خواب ہی رہے گا ، کم از کم اپنا حلیہ شاعرانہ کر لو، کرتا پاجامہ ، پہنو اور پان کی گلوری منہ میں ڈالو ، پچکاری ایسے مارو کہ چند چھینٹوں کی آمد ادبی انداز میں لگے ، حجام سے کہو بال کی پونی پیچھے بنائے ، اور بال آدھے کالے اور آدھے سفید کر دے، بال اتنے اسٹائل سے بنائے کہ کلام سناتے ہوئے بالوں کی لٹھ دیوانہ وار ماتھے پر ٹکریں مارے ، ساتھ ساتھ تمہیں بھی کلام سناتے ہوئے ماتھے کو پیٹنا ہوگا ، شعر کتنا ہی خراب ہو ، حاضرین سے پہلے تم نے سینہ اور ماتھا پیٹنا ہوگا ویسے چند واہ واہ کی ٹولیاں بھی آج کل دھاڑی پر مل جاتیں ہیں ، سلیم شاہی جوتے پہنو مگر پہلے مٹی میں لت پت کر لینا تاکہ دیکھنے والے یہ سمجھیں کہ تم نے بڑی خاک چھانی ہے ، کباڑیوں سے لے کر پرانے شاعروں کے کلام ہر وقت ہاتھوں میں رکھنا شروع کر دو تاکہ دیکھنے والے سمجھیں مطالعہ بڑا وسیع ہے ، بہت زیادہ سنجیدہ نظر آؤ گے تو کچھ بیوقوف شاعر کے ساتھ ساتھ دانشور بھی سمجھنے لگیں گے ، رنگین جھومتی بوتل خریدنا تمہارے بس میں نہیں تو اسٹنگ کی یخ ٹھنڈی بوتل کسی بین الاقوامی شہرت یافتہ بوتل میں بھر کر تھوڑی تھوڑی دیر بعد لہکتے نظر آؤ ، میں نے بات کاٹتے ہوئے کہا اچھا کلام مشاعروں میں سنانے کے لیئے کہاں سے لاؤں گا ؟ فرمانے لگے یہ کم قیمت پر مجھ سے لے لیا کرنا بلکہ یوں کرنا جب میرے دیئے ہوئے کلام سے مشاعرہ لوٹ کر آؤ تو میرے پرچون والے کا حساب کر دیا کرنا ، شروع میں تمہیں پریشانی ہو گی مگر جیسے جیسے تمہاری شہرت میں اضافہ ہو گا دوسرے تم جیسے اناڑی تم سے اشعار مانگنے لگیں گے تم ان کو بھی میرا دیا ہوا کلام بطور قیمت دے دیا کرنا اور میرا کمیشن الگ کر لیا کرنا ، میں نے حیرت اور غصے سے کہا یہ سب دو نمبری ہے ، پھڑک کر فرمانے لگے ، جب دوا دو نمبر ، دودھ ملاوٹ والا ، ہر چیز ہی دو نمبر استعمال کر رہے ہو تو شعری کلام دو نمبر استعمال کرتے ہوئے کیوں ضمیر جاگ رہا ہے ، میاں دو نمبر زمانے میں دو نمبری ہی چلے گی ، ابھی تو کھانا پکوا کر دینے والے ، کیش کی آفر دے کر صدارت حاصل کرنے والے ہیں تھوڑے دن رک جاؤ پھر یہ رمجو قصائی ، بابو کباڑیا ، کشن دھوبی ، راجا کیٹرنگ والا یہ سب صدارت کر رہے ہوں گے ، میں نے کہا اس ہیرا پھیری کو روکنے والا کوئی نہیں ؟ فرمانے لگے چند باضمیر گھر بیٹھ گئے کچھ نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ، کچھ مفاد پرست موقع کی تلاش میں ہیں ، میں نے کہا آپ نے نثری کلام سے میری آنکھیں کھول دیں ہیں میں اب چلتا ہوں مجھے صدارت نہیں کرنی میں فوٹوگرافر اور رپورٹر ہی ٹھیک ہوں ، فرمانے لگے جیسے تمہاری مرضی ، ویسے اگر کوئی متشاعر کلام کی تلاش میں ہو تو رابطہ کروا دینا میں کلو کے حساب سے بھی اپنا کلام بیچ رہا ہوں اسی سے گھر کا خرچہ چل رہا ہے میں نے کہا اب تک کتنا کلام بیچا ہے؟ فرمانے لگے ، دس شعراء و شاعرات کے مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں اور یہ سب ملک اور بیرون ملک پوشیدہ دیئے گئے کلام سے عزت کما رہے ہیں میں نے رازداری سے کہا ان میں سے کسی کا نام دینا پسند کریں گے ، فرمانے لگے پہلے معیاری ہیلمٹ کا بندوست کر لو ، جعلی عزت کمانے والے اپنی عزت کے لیئے سر پھوڑنے سے بھی دریخ نہیں کر رہے ، ارے میاں میری روزی روٹی چلنے دو ، میں نے کہا آپ جیسے سفید پوش شعراء کی مالی مدد کوئی ادارہ کیوں نہیں کرتا ؟ نم آنکھوں سے فرمانے لگے ، ہمارے مفادات کے لیئے کام کرنے والے اداروں کے سربراہ اور ملازمین سائیکل سے پجارو پر آ جاتے ہیں اور ہم جیسے غریب ، مفلس ادبی شخصیات کے لیئے صرف تعزیتی ریفرنس نصیب میں رہ جاتے ہیں ؟ یہ کہ کر روتے ہوئے کہنے لگے ہم جیسوں کے نصیب میں روٹی نہیں بلکہ زندگی سے نجات کے لیئے ریل کی پٹریاں ہوتی ہیں یا ہماری لاوارث لاشوں کے نئے نئے بہروپئے ہوتے ہیں ، تم بھی ایک سال بعد آئے ہو ، اب شاید ہماری چھ ماہ لاوارث لاش کی خبر پڑھ کر ہی آؤ گے تم بھی تو اپنے دوست کی خبر سے اپنی دوستی کی خبر بناؤ گے ، میں جذبات پر قابو نہ رکھ پایا اور بغیر جواب دیئے واپس پلٹ آیا