MOJ E SUKHAN

نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہے

نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہے
ہوا کے سامنے کس کا چراغ جلتا ہے

ترا وصال تو کس کو نصیب ہے لیکن
ترے فراق کا عالم بھی کس نے دیکھا ہے

ابھی ہیں قرب کے کچھ اور مرحلے باقی
کہ تجھ کو پا کے ہمیں پھر تری تمنا ہے

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم