MOJ E SUKHAN

پیدا کیا ہے جس نے مالک ہے وہ ہمارا

پیدا کیا ہے جس نے مالک ہے وہ ہمارا
رازق ہے وہ ہمارا خالق ہے وہ ہمارا

مچھلی کا رزق اس نے پانی میں رکھ دیا ہے
پتھر کے نیچے کیڑا بھی پیٹ بھر رہا ہے

انسان اس جہاں کا تحفہ حسین تر ہے
مخلوقِ کل جہاں میں تب ہی تو معتبر ہے

بندے ہیں ہم اسی کے ستار وہ ہمارا
ہم آسماں کو چھو لیں کردے اگر اشارہ

تتلی کے پر میں دیکھو رنگوں کی تازگی ہے
جگنو کے پر میں بھی تو اس کی ہی روشنی ہے

باتوں پہ اس کی چلنے میں ہی تو بندگی ہے
اس کی عنایتوں سے روشن یہ زندگی ہے

اپنے لیے زمیں پر کیا کچھ نہیں اتارا
آتا ہے وہ مدد کو جب جب اسے پکارا

نسیم شیخ

Facebook
Twitter
WhatsApp