MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا

غزل کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا کیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہا ان کی محفل میں اس کے چرچے ہیں مجھ سے اچھا مرا فسانہ رہا واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے میکدہ اب تو میکدہ نہ رہا اف رے نا آشنائیاں اس کی چار دن بھی تو آشنا نہ رہا […]

کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا Read More »

پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا

غزل پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا حسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہوا وہ میری آہ جو شرمندۂ اثر نہ ہوئی وہ میرا درد جو منت کش دوا نہ ہوا خیال میں نہ رہیں صورتیں عزیزوں کی وطن سے چھوٹے ہوئے اس قدر زمانہ ہوا وہ داغ جس کو جگہ دل

پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا Read More »

غزل حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرا لاکھ انکار اک اقرار ہے کس کا تیرا نہ دوا سے اسے مطلب نہ شفا سے سروکار ایسے آرام میں بیمار ہے کس کا تیرا لاکھ پردے میں نہاں شکل ہے کس کی تیری جلوہ ہر شے سے نمودار ہے کس کا تیرا اور پامال ستم

Read More »

جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں

غزل جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں درد جس میں نہیں جگر ہی نہیں لوگ کہتے ہیں وہ بھی ہیں بے چین کچھ یہ بے تابیاں ادھر ہی نہیں دل کہاں کا جو درد دل ہی نہ ہو سر کہاں کا جو درد سر ہی نہیں بے خبر جن کی یاد میں ہیں

جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں Read More »

غزل   کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا ہزار شکر وہ عاشق تو جانتے ہیں مجھے جو کہتے ہیں کہ ترا دل کہیں ضرور آیا جو با حواس تھا دیکھا اسی نے جلوۂ یار جسے سرور نہ آیا اسے سرور آیا خدا وہ دن بھی دکھائے

Read More »

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں

غزل حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں عید ہے اور ہم کو عید نہیں چھیڑ دیکھو کہ خط تو لکھا ہے میرے خط کی مگر رسید نہیں جانتے ہوں امیدوار مجھے ان سے یہ بھی مجھے امید نہیں یوں ترستے ہیں مے کو گویا ہم پیر مے خانہ کے مرید نہیں خون ہو جائیں

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں Read More »

درد دل میں کمی نہ ہو جائے

غزل درد دل میں کمی نہ ہو جائے دوستی دشمنی نہ ہو جائے تم مری دوستی کا دم نہ بھرو آسماں مدعی نہ ہو جائے بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے طالع بد وہاں بھی ساتھ نہ دے موت بھی زندگی نہ ہو جائے اپنی خوئے وفا سے ڈرتا ہوں

درد دل میں کمی نہ ہو جائے Read More »