MOJ E SUKHAN

کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلے

پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے

پیچ در پیچ سوالات میں الجھے ہوئے ہیں

فسانہِ دل بڑا مختصر – Fasana e Dil Bara Mukhtasar

آنکھوں میں انتظار کا اک در کھلا ہوا