MOJ E SUKHAN

اس قدر گل پہ مہربانی کیوں

غزل

اس قدر گل پہ مہربانی کیوں
اور کانٹوں سے خار کھانی کیوں
ان سرکش ہواؤں سے پوچھ ذرا
ہاتھ شاخوں کے ہیں خالی کیوں
یہ محبت ، ملن ہے روحوں کا
جسم خاکی پہ حکمرانی کیوں
کچھ خرد سے بھی مشورہ ہوتا
دل نے آنکھوں کی بات مانی کیوں
پیر پھیلائے — مفلسی ہے جہاں
جھانکتی بھی نہیں جوانی کیوں
ناز تھا تجھ کو ضبط گریہ پر
صوفیہ ، آنکھ میں یہ پانی کیوں
صوفیہ حامد خان
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم