MOJ E SUKHAN

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے

غزل

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے
تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے

ترچھے ترچھے تیر نظر کے لگتے ہیں
سیدھا سیدھا دل پہ نشانا لگتا ہے

آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے
بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے

پاؤں نا باندھا پنچھی کا پر باندھا
آج کا بچہ کتنا سیانا لگتا ہے

سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے
ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے

سننے والے گھنٹوں سنتے رہتے ہیں
میرا فسانہ سب کا فسانا لگتا ہےف

کیفؔ بتا کیا تیری غزل میں جادو ہے
بچہ بچہ تیرا دوانا لگتا ہے

کیف بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم