MOJ E SUKHAN

حدیث شوق کہیں یا کریں حیات کی بات

غزل

حدیث شوق کہیں یا کریں حیات کی بات
ہر ایک بات تری چشم التفات کی بات

خزاں کا ذکر بھلا موسم بہار میں کیا
طلوع صبح درخشاں میں کیسی رات کی بات

حدیث درد و الم کو اگر الگ کر لیں
تو کس زباں سے کریں کرب کائنات کی بات

بہار مے کدہ و ساقی و شراب و شباب
کوئی سنے تو کہیں دل کے واردات کی بات

غم حیات کا درماں نہ کر سکے لیکن
بہت ہی غور سے سنتے رہے حیات کی بات

رہ طلب میں نشیب و فراز منزل کی
انہیں خبر جو سمجھتے ہیں حادثات کی بات

میں اپنے ہوش بھی قائم نہ رکھ سکا جب فیضؔ
وہ ایک رات کا قصہ ہے ایک رات کی بات

فیض تبسم تونسوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم