MOJ E SUKHAN

خدا نے لاج رکھی میری بے نوائی کی

غزل

خدا نے لاج رکھی میری بے نوائی کی
بجھا چراغ تو جگنو نے رہنمائی کی

ترے خیال نے تسخیر کر لیا ہے مجھے
یہ قید بھی ہے بشارت بھی ہے رہائی کی

قریب آ نہ سکی کوئی بے وضو خواہش
بدن سرائے میں خوشبو تھی پارسائی کی

متاع درد ہے دل میں تو آنکھ میں آنسو
نہ روشنی کی کمی ہے نہ روشنائی کی

اب اپنے آپ کو قطرہ بھی کہہ نہیں سکتا
برا کیا جو سمندر سے آشنائی کی

اسے بھی شہ نے مصاحب بنا لیا اپنا
جس آدمی سے توقع تھی لب کشائی کی

وہی تو مرکزی کردار ہے کہانی کا
اسی پہ ختم ہے تاثیر بے وفائی کی

اقبال اشہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم