MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

سخن ِتازہ کی شاعرہ  پروین سجل

سخن ِتازہ کی شاعرہ 
فنون لطیفہ کی صنف ادب زمانہ قدیم سے مقبول ترین صنف ہے اور صنف ادب میں سب سے زیادہ مقبول صنف غزل ہے یہ وہ صنف جو لکھنے والا لکھتا ہی جاتا ہے اور گانے والا گاتا ہی جاتا ہے یہی نہیں اس کا مطالعہ کرنے والا پڑھتا ہی جاتا ہے اس کی وجہ غزل کے نۓ رنگ ہیں غزل ہر دور میں کسی نۓ خیال میں قاری کے سامنے آئی جس کی وجہ سے توجہ کا مرکز ہے ۔ غزل کا ہر شعر الگ سے منظر کو پیش کرتا ہے جس سے پانچ یا اس سے زائد اشعار میں مختلف مضامین شامل ہوتے ہیں کبھی کبھی غزل جمالیاتی رنگ میں اپنا قد بڑھاتی ہے اور کبھی حقیقی در سے روشن ہوتی نظر آتی ہے ۔ اس صنف میں کسی منظر کو چاہے وہ عارضی ہو چاہے وہ دائمی ہو چاہے وہ خوابی ہو چاہے وہ ناممکنات میں سے ہو چاہے وہ دردو الم کی چیخ ہو چاہے وہ حسن کی تعریف ہو چاہے وہ غم کی داستاں ہو چاہے موسموں کا رنگیں مزاج ہو چاہے وہ رودادِ غربت ہو چاہے وہ دل کی باتیں ہوں چاہے وہ اشکوں کا سمندر ہو چاہے وہ زخموں کی مالا ہو غرض یہ کہ ہر منظر ہر حادثہ, ہر واقعہ, ہر انداز فکر اس میں سمونے کی جگہہ ہے یہی وجہ ہے قاری کو مطالعہ میں لطف اور لکھاری کو مضامین سمیٹنے کا موقع ملتا ہے اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ محترمہ پروین سجل نے نجانے کتنے موضوعات سخن کو مجموعہ
"صاحب ” میں سجایا ہے پروین سجل چونکہ کہنہ مشق اور مسلسل لکھاری ہیں اب تک ان کے 9 مجموع منظر عام پر آ چکے ہیں "ممکن ” سے شروع ہونے والا سفر ” تکیہ” تک کا سفر کامیابی سے طے کرنے کے بعد اگلے پڑاو کی جانب رواں ہے ہم آج بات کریں کے انکے شعری مجموعہ "صاحب ” پر اور جو انکا تازہ شعری مجموعہ ” تکیہ ” ” اس پر پھر کسی دن اظہار خیال ہوگا کیونکہ وہ مجموعہ ابھی زیر مطالعہ ہے۔
پروین سجل انتہائی سلجھی ہوئی اور معتبر ادبی شخصیت کے جانی پہچانی جانے والی شاعرہ, ادیبہ, اور صحافی ہیں
ان کو علوم پر خاصی دسترس حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں الفاظ کا خاصا زخیرہ ہے جو طویل کہانی, حادثہ, کو چند الفاظ میں بیان کر نے کی خاصیت رکھتا ہے ایک اچھے لکھاری کی پہچان ہی کم الفاظ میں مقصد سمیٹنا ہے ورنہ شعر اور کہانی, افسانہ وغیرہ میں فرق جاننا مشکل ہو جاتا ۔ طویل خیال و خواب کو دو مصرع میں ایسے قید کرنا کہ جب اس کی تشریح ہو تو کئی صفحات پر مشتمل ہو اسی کا نام شعر ہے ۔
بلاشبہ پروین سجل کے اشعار اس میعار پر ہیں کہ وہ شعر ہیں اور وہ اشعار میں ہر منظر کو ڈھالنے کی دسترس رکھتی ہے کوئی بھی شاعرہ جب غزل کی جانب آئی تو سب سے پہلے نقاد کی نگاہ اس کے نسائی ادب کی جانب گئی کیوں کہ وہ صنف نازک ہے ظاہر ہے صنف نازک کا لہجہ نسائی خواہش و خواب سے جڑا ہے مگر کچھ شاعرات
کے ہاں نسائی لہجہ کم کم ملا اسکی وجہ کہ وہ آپ بیتی کے خیال پر نہیں بلکہ عوام بیتی اور حالات حاضرہ کی حس کی مالکہ ہے جو اپنے دکھ درد اپنی خواہشوں اپنے خوابوں کی بجاۓ انسانی دردو آلم کو محسوس کرنے لگی
قدرتی مناظر سے قربت بڑھانے لگی اور یہی مقام نسانی حس کی نازکی کا وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے اک پختہ کار شاعرہ کے خیال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ا اشعار منفرد خیال سے مزیں اور اسلوب سخن کی پہچان ہو سکتی ہے پروین سجل کے ہاں رومانی اسلوب بہت کم ہے فقر اور فکر کے ساتھ حقیقی اسلوب ان کے ہاں زیادہ ہے جس کی وجہ وہ دور حاضر کی شاعرات میں منفرد اسلوب کی شاعرہ ہیں انکے اشعار میں قرب ِ ممکنات اور تلاش فقر ہے جو کہ مفکرانہ سوچ کے اس دھارے پر لے جاتا ہے جہاں سے بہت دور کا منظر بھی قریب دیکھا جا سکتا ہے شاعر یاتو منظر واقعہ حادثہ کو دیکھ کر شعر کہتا ہے یا ہھر وہ اس کیفئیت سے گزر کر شعر تخلیق کرتا ہے یا پھر اسے الہامی طور شعر ملتا ہے محسوسات اور حساسیئت بھی زریعہ شعر ہیں ۔
جیسا کہ یہ شعر اک ایسا شعر جس میں کرب کا وہ خیال ہے جسے شعر میں سموتے ہوۓ شاعر کی کفیئت کا اندازہ کر سکتے ہیں اندھیری رات بھی ہو اور چراغ جو امید کا سہارا ہو وہ بھی بجھ جاۓ اس کے بجھنے سے ساۓ بھی بجھ جائیں خاص اشارہ یہ کہ ساۓ سے سایہ الگ ہونا یہ نیا اچھوتا خیال ہے جسے شاعرہ نے بخوبی نبھایا ہے
مطالعہ کیجۓ
جلتا چراغ بجھ گیا ساۓ بھی بجھ گۓ
تیرہ شبی نے ساۓ سے سایہ الگ کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرانے خیال کو نۓ انداز میں بیان کرنا بھی دسترسِ فن کا خاصا ہے
فقط کچّے گھڑے کے واسطے میں
یہ دریا ہاتھ سےروکے کھڑی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔
شاعرہ نے اشعار میں فرضیات و لفظیات سے کام نہیں لیا بلکہ حقیقی خیال کا پیرہن پہنایا ہے اس شعر میں نیا رنگ یہ ہے ساۓ کو بستر بنا دیا یہ جدید رنگ ہے جس میں شاعرہ نے ناممکن کو ممکن بنا دیا شعر دیکھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا وجودِ خام سے لپٹی تھکن
کھول کر سایا ہی بستر کر لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند اشعار اپکے زوق سخن کے لۓ
گردشِ چرخ چین لینے دو
تنگی ء جاں کو آستیں کافی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاؤں ڈالے تھے جونہی پانی میں
بول اٹھے کنارے آپس میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر سارا نہ اٹھا صبح تلک
ؔموجہ ء گل نے نافہ چھوڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سجل چھوڑ دیا چھوڑ دیا
ذکر تیرے کا نہ کلمہ چھوڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ اوپر کہا گیا شاعرہ کا نسائی رنگ کم اور حقیقت کا شعری رنگ زیادہ ہے پروین سجل کو علوم ِ سخن پر جو دسترس ہے انکے عمیق سخنی اور علمی بصیرت کا ثبوت اپنے اشعار میں بڑی خوبی سے بیان کرتی ملتی ہے جیسا اک شعر
مری آنچل کی سلوٹ ناپتے ہو
تری دستار کے خط سب پرانے
غرض یہ ” صاحب” کی تخلیقارہ نہ صرف روائیت سے جڑی بلکہ جدید ادب میں بھی اپنا حصہ شامل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اچھوتے اور جدید اشعار کا نیا پن خود بخود شاعرہ کی ادبی قدامت کا فیصلہ دیتے نظر آتے ہیں
انکا تازہ شعری مجموعہ ” تکیہ ” میرے مطالعہ میں ہے جو کہ "صاحب ” کے بعد مجھے ملا اس مجموعہ میں انکا سخنی وجدان بھرپور انداز میں اچھی اور جدید شاعرہ کے طور سامنے آۓ گا کچھ دن بعد اظہار خیال شائع کرونگا ۔
مجموعہ "صاحب ” پر لکھتے وقت محسوس ہوا کہ یہ مجموعہ بھی کئی صفحات کا مضمون لکھنے پر مجبور کر رہا ہے مگر کتاب چہرہ پر کوئی مطالعہ نہیں کرتا یہ وجہ ہے کہ اسے مختصر شائع کیا ورنہ پروین سجل کی شاعری
موضوعات کے حوالہ سے اک داستاں نہیں بلکہ کئی داستانوں پر مشتمل ہے جسکا کتاب چہرہ پر احاطہ ممکن نہیں
میری دعا کہ محترمہ پروین سجل اپنے کھرے , سچے اور حقیقی خیالات کے ساتھ ہمیشہ سر بلند رہے آمین
عرفان خانی فونڈر عالمی ادب اکادمی
Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین